سیاست کی دنیا کا ایک پرانا اصول ہے کہ جب آپ کا حریف آپ کو کوئی بھی مدلل مدبر اور عقلی جواب نہ دے پائے ۔اور آپکی ذاتیات پر حملہ کرنا شروع کر دے۔ تو سمجھ جائیں کہ آپ اس کے مقابلے میں فاتح ہیں۔ اور وہ شکست مان چکا ہے۔ اب بیشک آپ کاحریف اپنے منہ سے یہ بات نہ مانے کہ میں اپنی شکست تسلیم کر تا ہوں۔اس کے یہ ایکشنز وہ آپ کی ذاتیات پر حملہ کرے گا آپ کی پرسنل چیزوں کو پوائنٹ آؤٹ کرے گا۔
حتی کے آپ کی مذہبی چیزوں پوائنٹ کرے گا۔ آپ کی مذہبی پریکٹس کو پوائنٹ آؤٹ کرے گا۔ یہ سب یہ شو کرے گا کہ وہ اصل میں گھٹیا ذہنیت پر آچکا ہے ۔وہ اپنے منہ سے شکست نہیں مانے گا ۔لیکن اس کی باتیں اور اس کے ایکشن لوگوں کو یہ باور کرا دیں گے کہ وہ شکست کھاچکا ہے ۔
پاکستان کے وزیراعظم عمران خان اور انڈین میڈیا کا بلکل یہی حساب ہے۔انڈین میڈیا پاکستان کے اندر تو کچھ پرکٹیکل اپوزیشن عمران خان کو نہیں دیتا۔ سیاسی لیول کے اوپر۔لیکن سرحد کے اس پار انڈین میڈیا آئے دن عمران خان پر کوئی نہ کوئی حملہ کرتا رہتا ہے۔ عمران خان اس وقت جیسا کہ آپ سب لوگ جانتے ہیں امریکہ میں ہیں۔ انڈیا کے پرائم منسٹر نریندرمودی بھی اس وقت امریکہ میں ہیں۔ یونائیٹڈ نیشن جنرل اسمبلی کا اجلاس چل رہا ہے ۔اب انڈین میڈیا کی پوری کوشش ہے کے کسی طرح عمران خان کو اوور شیڈو کریں۔ نریندر مودی کو ان کے سر پر جا بٹھا دیں کہ نریندر مودی عمران خان سے بڑا لیڈر ہے ۔ اس کوشش میں انڈین میڈیا نے عمران خان کی تسبیح تک کو ٹارگٹ کر لیا ہے ۔
عمران خان نے بھی حال ہی میں ٹرمپ سے ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے کی ویڈیو دیکھیں تو آپ کو عمران خان اس ملاقات کے دوران تسبیح پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے۔ انڈین میڈیا نے عمران خان کے اس تسبیح پڑھنے کے اوپر پوری ایک رپورٹ چلائی ہے۔
یہ رپورٹ مختلف انڈین میڈیا چینل پر چلائی گئی ہے عمران خان کا تسبیح پڑھنا تک ان لوگوں کو ہضم نہیں ہو رہا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کے عمران خان سے جل رہے ہیں۔ عمران خان یونائیٹڈ نیشن سے اس دورے کے اوپر ایک سٹیٹس مین کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ نریندر مودی کا حال بالکل بے حال ہے اس کے برعکس ۔
ایک اور بڑے مزے کی بات چلی آپ نے عمران خان کی تسبیح کے اوپر رپورٹ کی کہ وہ تسبیح پڑھ رہے ہیں ۔۔چلو ٹھیک ہے۔
لیکن جس نے رپورٹ کی ۔کم از کم وہ تو ڈھنگ کا بندہ کرے۔ جس کا تلفظ واضح ہو۔ جسے عربی کا کوئی پتہ ہو۔تسبیح اگر مسلمان پڑھتا ہے تو ہندو بھی تو پڑھتا ہے۔ ہندو بھی تو مالا جپتے ہیں۔ اور اس میں جو منتر پڑھتے ہیں اس کے بارے میں رپورٹ بنا رہے ہوتے تو پھر کسی بھی فضول انسان کو آپ لوگ لے کر آ جاتے کوئی مسئلہ نہیں تھا ۔اس نے کسی طرح کور کر لینا تھا کہ جنترمنتر میں کیا بولا جاتا ہے ۔یہاں پر بات ہورہی ہے اسلامی تعلیمات کی ۔مسلمان جو تسبیح پڑھتے ہیں اس کی تو کم از کم کسی ایسے بندے کو لے کر آتے جو تھوڑی بہت عربی صحیح طریقے سے پڑھ لیتا۔
اس رپورٹ میں خاتون کہتی ہیں کہ وہ مسلمان جو تین تسبیح پڑھتے ہیں ان کے الفاظ ہیں۔ سبحان اللہ ۔الحمداللہ اور اللہ اکبر۔ لیکن یہ خاتون یہ الفاظ تک صحیح تک نہیں پڑھ سکی۔تو رپورٹ کیا خاک پیش کرے گی۔ 

دوسرا اس خاتون نے کہا کے عمران خان تسبیح اس لیے پڑھ کیونکہ وہ ٹرمپ سے خوف ذدہ بیٹھا ہے۔بندہ آپ کی عقلوں کے اوپر بندہ ماتم کرے کیا کرے۔ آپ کو کس نے کہہ دیا کہ عمران خان وہاں پر خوفزدہ بیٹھا ہوا تھا۔ اس لیے وہ اپنے رب کو یاد کر رہا تھا ۔مسلمانوں کو تعلیمات دی جاتی ہیں اللہ کی طرف سے کے اپنے رب کو امید سے یاد کرو اپنے رب کو پکارو ۔ہمارا رب ہمیں یہ بھی حکم دیتا ہے کہ خوف کے عالم میں بھی مجھے پکارو۔

ٹرمپ کے ساتھ عمران خان بیٹھا ہوا ہے۔ اس کے سارے سوالوں کا جواب دے رہا ہے۔ خوداعتمادی سے افغانستان اور کشمیر جیسے مسلے کے اوپر کھل کر بات کر رہا ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا کے اس کے سامنے کھڑا ہے۔ان سے ایک سے ایک سوال پو چھا جا رہا ہے۔ ہر سوال کا وہ فورن سے جواب دے رہے ہیں ۔آپ لوگوں کو پتہ نہیں کہاں سے لگا کہ خان خوف کے عالم میں ہیں۔ 
اصل میں خوف کے عالم میں آپ اور آپکا انڈین میڈیا ہے۔ اپنے مودی کی وہ پریس کانفرنس دیکھ لیں ۔ جو اس ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ کی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں اس کو 15 منٹ لگ رہے تھے۔ سوچ سوچ کے وہ بولے جا رہا تھا ۔