سعودی عرب تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔عربوں کی قسمت تیل نے بدل ڈالی ۔تو عربوں میں غرور اور انا نے جنم لیا۔ عرب خود کو عظیم نسل اور باقیوں کو حقیرسمجھنے لگے۔ لیکن پھر بھی پوری مسلم دنیا کے دل سعودی عرب کے لئے دھڑکتے ہیں۔ کیونکہ وہاں مکہ اور مدینہ پاک ہے ۔لیکن سعودی عرب نے سمجھ لیا اب مسلم دنیا ان کے کنٹرول میں ہے۔ اور وہ امریکہ بھارت ساتھ معاہدہ کرتا رہے گا اور مسلم دنیا خاموش رہے گی۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 ختم ہوئے ایک سال ہوگیا ۔ لیکن مسلم دنیا کا لیڈر سعودی عرب ایک لفظ نہیں بولا۔ جس سے ایران ترکی ملیشیا مجبور ہو رہے ہیں کہ وہ اپنا ایک الگ بلاک بنائے۔ اور مسلم امہ کی ترجمانی کریں ۔لیکن یہاں سعودی عرب ناخوش تھا ۔اور پاکستان کو سعودیہ نے کولالمپور دور سے بھی روک دیا ۔جس کی ایک بڑی وجہ تیل تھا ۔کیونکہ پاکستان سعودیہ سے ادھار تیل دے رہا تھا ۔لیکن اب ترکی کے ساتھ ساتھ پاکستان کے لیے بھی ایک بڑی بڑی خوشخبری آئی ہے۔ترکی میں گیس کے بڑے ذخائر دریافت ہوئے ہیں۔ اس میں صرف اور صرف ایک کنویں سے تین سو بیس ارب مکعب فٹ گیس ملی ہے۔ جو ترکی کی بیس سال کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیے۔اور اس سے 40 ارب ڈالر کی سالانہ بچت بھی ترکی کو ہوسکے گی۔ لیکن یہ واضح کرتے چلیں گئے ذخائر صرف ایک کنویں سے ملے ہیں جو کہ بحر اسود میں کھدائی کے دوران ملے۔ جبکہ بحیرہ روم میں اس سے کہیں زیادہ تیل و گیس کے ذخائر موجود ہیں ۔جبکہ ترک صدر نے اعلان کیا ہے کہ بحیرہ اسود میں مزید خدائی کی جائے گی۔ تاکہ اور ذخائر کی تلاش کی جا سکے ۔اور اگر گیس کے ساتھ ساتھ بھاری مقدار میں تیل بھی ملتا ہے، تو ترکی کے ساتھ ساتھ پاکستان کی بھی تقدیر بدل سکتی ہے ۔اور پاکستان کو سستا تیل ترکی سے مل سکے گا ۔اور سعودی عرب کی اجارہ داری بھی ختم ہو جائے گی۔ کیونکہ اس وقت ایران سے پاکستان سستا تیل خرید سکتا ہے۔ لیکن ایران پر امریکی پابندیوں کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں۔