بھارت کو لگتا ہے کہ ذلت اٹھانے کی عادت ہوگئی ہے۔ تبھی تو بھارت نے چابہار پورٹ کے لیے سامان دینے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ایران پہلے ہی بھارت کو چابہار سے الگ کر چکا ہے۔ اور اعلان کر چکا ہے کہ ایران گوادر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ لیکن بھارت کو ابھی بھی امید ہے کہ ایران بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان مخالف سرگرمیاں کر سکتا ہے۔ لیکن ایران کو بھی پتہ ہے کہ کتنے کی طاقت چین اور پاکستان کی طرف جارہی ہے۔ بھارت کے وزیر دفاع راجنات اپنا دورہ روس پورا کر کے ایران چلے گئے ہیں۔ جہاں لگتا تو یہی ہے، کہ وہ ایران کی منت کرنے والے ہیں ،کہ افغانستان تک رسائی کے لیے چابہار بندرگاہ ان کے لیے کتنی اہم ہے۔ جبکہ چین کی 400 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے مقا گلے میں بھارت کی محض 500 ملین کی سرمایہ کاری کو ایران لات مار چکا ہے اور بھارت کو ریل پروجیکٹ سے بھی الگ کر چکا ہے جب کہ اب روس کے دورے کے دوران علاج جنات نے روس کے ساتھ ایک ہفتے کی ڈیڈ کی عورتوں سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان سے کوئی اللہ کی ڈیل نہ کرے جس سے بھارت پر خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اثر رسوخ کا خوف صاف دکھائی دیتا ہے ۔ بھارت کو لگتا ہے کہ ذلت اٹھانے کی عادت ہوگئی ہے۔ تبھی تو بھارت نے چابہار پورٹ کے لیے سامان دینے کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ایران پہلے ہی بھارت کو چابہار سے الگ کر چکا ہے۔ اور اعلان کر چکا ہے کہ ایران گوادر کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ لیکن بھارت کو ابھی بھی امید ہے کہ ایران بھارت کے سا تھ مل کر پا کستا ن مخا لف سرگر میاں کر سکتا ہے