پاکستان چین اور ترکی ایک ساتھ مل کر نیا  ایف اے ٹی ایف  بنانے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ آپ ہمیں کسی بلیک اور گرے لسٹ  سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چودھری نے   جمعرات کے روز پاکستان کے  فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ایکشن پلان کے  جائزے سے متعلق  جھوٹی میڈیا رپورٹس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد دراصل ایک نئے مالیاتی کمیشن ٹاسک فورس سے قیام کے لیے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے میڈیا پر چلنے والی    جھوٹی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ  پاکستان چین اور ترکی کے ساتھ مل کر ایک نئے مالیاتی منصوبے ایف اے ٹی ایف کے دونوں ملکوں  کے  ساتھ مل کر تعاون  کر رہا ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مزید وضاحت کی کہ   دراصل ہم  ایف اے ٹی ایف کی تیاری کے لیے کام کر رہے ہیں۔ کیونکہ  ٹاسک فورس محض ایک لفظ  کر رہ  چکا ہے۔ ہم ایک نیا ادارہ ترکی اور چین کے ساتھ مل کر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی  سیاہ یا گرے لسٹ  میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور نہ ہی اس میں شامل ہونے سے کوئی بڑی پریشانی ہے۔ زاہد  نے کہا کہ ہم نئی  فہرست بنائیں گے۔ اور دوسرے ممالک کو ان  فہرستوں میں شامل کرکے ا ن کے لیے مختص کر  د ی جا ئیں گی ۔ا گر  چہ  چین مو جو د ہ ایف اے ٹی ایف  کی قیا د ت کر  ر ہا ہے ۔لیکن ا یف ا ے ٹی ا یف میں تیز ی کے سا تھ ہم یہ تینو ں یعنی پا کستا ن تر کی ا و ر چین  ا یک نیا ا یف ا ے ٹی ا یف بنا نے کے لیے کام کر  ر ہے ہیں ۔