سینیٹ کو بتایا گیا ہے کہ 5 اگست 2019 کے بعد بھارت کو گلابی نمک کی برآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے
پاکستان نے 2018 میں 50 ملین ڈالر مالیت کے تین لاکھ ٹن سے زائد نمک برآمد کیے جبکہ پاکستان بھارت کو سات روپے چار پیسے فی کلو کے حساب سے نمک برآمد کرتا رہا ہے۔
منگل کو ايوا ن بالا ميں وقفہ سوالات کے دوران سينيٹر مہک راج درانی ، سینٹر سراج الحق اور دیگر ارکان کے سوالات کے جواب میں وفاقی وزیر پارلیمانی امور اعظم سواتی نے ایوان کو بتایا کہ بھارت سالانہ 12.8 ملين ٹن معدنی نمک دنيا کو برآمد کرتا ہے اور وہ دنیا میں غیر معیاری صنعتی نمک برآمد کرنے والا ملک ہے جو زیادہ تر سوڈا ایش جو زیادہ تر سوڈا ایش استعمال ہوتا ہے ۔
دوسری طرف پاکستان دنیا میں 2018 میں 50 ملین ڈالر مالیت کا تقریبا تین لاکھ ٹن سے زائد معدنی نمک برآمد کیا ہے۔ا اور بھارت کو 72 ہزار چھ سو اکتیس ٹن نمک برآمد کیا گیا ۔جس میں صنعتی نمک کی دونوں اقسام شامل ہیں ۔جو سوڈا ایش اور گھریلو نمک میں استعمال کیا جاتا ہے۔
پاکستان نے بھارت کی برآمدی قیمت کے مقابلے میں تین گنا زیادہ قیمت پر معدنی نمک برآمد کیا ۔لیکن پانچ اگست 2019 کے بعد اب بھارت کو نمک کی برآمد پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔
پاکستان کا يہ فيصلہ بہت اچھا ہے اور اب بھارت کو کافی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ اور اب پاکستان کو چاہيے کہ جو نمک بھارت کو بر آمد کيا جاتا تھا اب دوسروں ملکوں کو دگنی قيمت پر برآمد کر کے ملک کے بيرونی زر مبادلہ ميں اضافہ کيا جائے۔
اس فيصلے کے بعد بھارت کو کافی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستان دنیا میں 2018 میں 50 ملین ڈالر مالیت کا تقریبا تین لاکھ ٹن سے زائد معدنی نمک برآمد کیا ہے۔ا اور بھارت کو 72 ہزار چھ سو اکتیس ٹن نمک برآمد کیا گیا ۔جس میں صنعتی نمک کی دونوں اقسام شامل ہیں ۔جو سوڈا ایش اور گھریلو نمک میں استعمال کیا جاتا ہے۔