اسرائیل پاکستان سے تین بڑے خطرات محسوس کرنے لگا۔ اسرائیل کو پتا ہے کہ پاکستان کے پاس بہترین فوج لوگوں میں جہاد کا جذبہ اور بہترین دفاعی نظام ہے ۔یہ ایک ایٹمی ملک ہے ۔جس کی بہترین میزائیل ٹیکنالوجی اسرائیل کو ڈائریکٹ ہٹ کر سکتے ہیں ۔ سینئر اینکر پرسن عمران ریاض نے کہا ہے کہ اسرائیل کے لیے اس وقت اصل خطرہ ایران ہے جس کے ساتھ اس کی لڑائی رہتی ہے ایک خطر ہ اسرائیل کے لیئے ترکی ہے ۔ اور ایک خطرہ ایسا ہے جس کے ساتھ اسرائیل کی کوئی پنجہ آزمائی تو نہیں ہوئی کوئی گنجائش نہیں ہوئی، لیکن بلاواسطہ ہوئی ہے۔ اسرائیل کو سب سے بڑا خطرہ پاکستان سے ہے ۔اسرائیل یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان ایٹمی ملک ہے۔ اور اس کے پاس دنیا کا بہترین دفاعی نظام ہے۔ اس کی فوج بہت پروفیشنل ہیے،جبکہ ملک میں جہاد کا نظریہ ہے۔ اور لوگ اپنی فوج کے ساتھ ملکر لڑنے مرنے کو تیار ہوتے ہیں ۔ان کے پاس میزائیل ٹیکنالوجی ایسی ہے کہ یہ جا کر اسرائیل کو ڈائریکٹ ہٹ کر سکتے ہیں۔ تو اسرائیل پاکستان کو بہت بڑے خطرے کے طور پر دیکھتا ہے ۔اگرچہ ایران اور ترکی کو بھی اسرائیل اپنا دشمن سمجھتا ہے۔ لیکن اسرائیل پاکستان پر فوکس کرے گا ۔اس کی وجہ پاکستان کے پاس ایٹم بم، میزائل ٹیکنالوجی، مسلم دنیا کی سب سے بڑی فوج اور مسلم دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہوناہے۔ سعودی عرب اپنی سیکورٹی کے لیے پاکستان پر انحصار کرتا ہے۔ عمران ریاض نے مزید کہا کہ اگر تمام عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کر لیتے ہیں، تو مسلم دنیا کی قیادت آٹومیٹکلی پاکستان کے کھاتے میں پڑ جائے گی۔ اور پاکستان مضبوط ملک بن جائے گا ۔سعودی عرب کی قیادت کرنے کی خواہش یا تو ختم ہوجائے گی، یا کمزور پڑ جائے گی ۔انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ سعودی عرب اور یو اے ای چاہتے ہیں کہ پاکستان کے تعلقات اسرائیل کے ساتھ بن جائیں۔ اور پاکستان اسرائیل کو تسلیم کر لے۔تاکہ کے راستے کا کانٹا دور ہوجائے۔ پھر وہ بھی اسرائیل کو تسلیم کر لیں گے،کیونکہ اس صورت میں ان پر سوال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوگا ۔پاکستان پر اس وقت اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے بہت دباؤ ہے ۔لیکن وزیراعظم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرکے میں اللہ کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ اگر عمران خان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتے تو ان پر بین الاقوامی پریشر آئے گا۔ اور ان کے خلاف پاکستان میں احتجاجی تحریک چلائی جائیں گی۔