روس کی خواہش ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم پاکستان اور بھارت کے مابین مذاکرات میں سہولت فراہم کرے ۔روس کو امید ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم دو ممبران ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ایک طویل تعطل کے بعد براہ راست بات چیت کے آغاز کو شروع کر سکتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان نے حال ہی میں شنگھائی تعاون تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی۔ جس کے پہلے سے ممبرانوں میں روس چین اور وسطی ایشیا کے چار ممالک موجود ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم وزرادفاع کے ذریعے دفاع کے آخری اجلاس کی سائڈ لانز پر بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے اپنے چینی ہم منصب سے راضی تناؤ پر تبادلہ خیال کیا ۔جبکہ اب بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر سنگھ ایم شنگھائی تعاون تنظیم کے وزراء خارجہ کونسل کے اجلاس کے موقع پر اپنے چینی ہم منصب وونگ ہی سے ملاقات کریں گے۔ اس روایت کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے منگل کو روسی سفارتخانے میں ڈپٹی چیف آف مشن رو من نے ا مید ظا ہر کی کہ ہند و ستا ن ا و ر پا کستا ن ا س عمل کی پیر و ی کر سکتے ہیں ۔ ر و سی حکا م یہ چا ہتے ہیں کہ ہند و ستا ن ا و ر پا کستا ن کے مشتر کہ ا عما ل مو ر شنگھا ئی تعا و ن تنظیم کے پلیٹ فا ر م سے د و طر فہ مذ ا کر ا ت شر و ع کر نے کے لیے د و نو ں مما لک کے د ر میا ن ا عتما د پید ا کیا جائے۔ اس کے بارے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ باہمی اعتماد کو بڑھانے اور بات چیت شروع کرنے کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تعاون کے لئے یہ ایک بہت اہم پلیٹ فارم ثابت ہو سکتا ہے ۔