چین اور بھارت کے مابین غیر ارادی طور پر جنگ کا ماحول بن سکتا ہے، دفائی ماہرین۔۔۔ چین اور بھارت دونوں جوہری قوت کے حامل ممالک ہیں ۔جن کی افواج گزشتہ کئی ماہ سے سرحدوں پر آمنے سامنے ہے ۔اور ان کے درمیان کئی دہائیوں بعد لڑائی میں متحدہ بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد سے سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے یدفاعی ماہرین نے چین اور بھارت کے درمیان غیر ارادی جنگ چھڑنے کا خطرہ ظاہر کردیا۔ اور یہ بھی کہہ دیا ہے جنگ میں پاکستان بھی شامل ہو سکتا ہے۔ چین اور بھارت کے مابین گزشتہ 45 برس کے دوران متواتر معاہدے ہو چکے ہیں۔ جس میں تحریری اور زبانی دونوں طرح کے معائدے شامل ہیں۔ تاکہ کوہ ہمالیہ خطے میں کشمیر کی سرحد کے قریب دونوں ممالک کی سرحد پر جنگ بندی کو قائم رکھا جا سکے۔ بھارتی فوج کے پالیسی سازوں کا کہنا ہے کہ اگر چین اور بھارت کے درمیان فوجی محاذ آرائی ہوئی، تو اسلام آباد اپنے دوست چین کی مدد کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہوگا۔ اور یہ صورتحال نئی دہلی کے لیے موجودہ صورتحال سے زیادہ خطرناک ہوگی۔بھارتی فوج کی شمالی کمان کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ڈی ایس ہودا کا کہنا ہے کہ حقیقی طور پر صورتحال انتہائی سنگین ہے۔ جو کہ کسی بھی وقت بے قابو ہو سکتی ہے۔ جمعہ کےروز دونوں ممالک کے وزرائے دفاع نے روسی دارالحکومت میں مذاکرات کئے ۔جو اس بات کا مظہر ہے کہ تنازعے کو ختم کرنے کے لیے اب سیاسی صورتحال پر بات چیت شروع کی جارہی ہے۔ چین میں واقع یونیورسٹی کے پروفیسروں وانگ لیان کا کہنا ہے کہ، چین اور انڈیا کے درمیان ایک کھلی جنگ کا میدان ہے ۔دونوں فریقین فی الحال صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں ۔کچھ عرصہ قبل چائنہ اور بھارتی فورسز آمنے سامنے آ گئی تھی جس میں چینی فوج کے ہاتھوں لڑائی کے دوران بھارت کے متعدد فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔