پاکستان کا کوئی بھی بینک ایران کے ساتھ کاروبار کے لیے تیار نہیں ۔مگر کیوں۔۔؟؟؟ وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے کہا ہے کہ ایران میں پاکستانی چاول بہت زیادہ پسند کیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کا کوئی بھی بنک ایران کے ساتھ تجارتی اور معاشی لین دین کرنے کو تیار نہیں۔چاول برآمد کرنے والوں کے ساتھ بیٹھ کر اس کا حل نکالتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال میں جو ہو گیا سو ہو گیا۔ اب آگے دیکھنا ہوگا۔ اور رہنما اصول بناتے ہوئے درآمدات پر انحصار کم کرنا ہوگا۔ مشیر تجارت نے لاہور چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں ملک کو مینوفیکچرنگ کی طرف لانا ہوگا اور ایکسپورٹ کو بنیاد بنانا ہوگا ۔نوکریاں پیدا کرنا ہو گی ان کا کہنا تھا کہ 41 فیصد خام مال کی کسٹم ڈیوٹی سیلز ٹیکس درآمدی ڈیوٹی زیرو ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران برآمدات میں کمی ہوئی ۔جس پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ اگلے تین سال کے لیے ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے ۔واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان ایران کے ساتھ کھل کر تجارت نہیں کر پا رہا۔ جس کی وجہ سے پاکستان کی کافی ایکسپورٹس ر کی ہوئی ہیں۔ جبکہ کوئی بھی بینک ایران کے ساتھ لین دین نہیں کرنا چاہتا ۔ کہ جس کے بعد ا س کو پا بند یو ں کا سا منا کر نا پڑ ے ۔ 41 فیصد خام مال کی کسٹم ڈیوٹی سیلز ٹیکس د ر آ مد ی ڈ یو ٹی زیرو ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران برآمدات میں کمی ہوئی ۔جس پر ڈیوٹی ختم کر دی گئی۔ اگلے تین سال کے لیے ریگولیٹری اور کسٹم ڈیوٹی کم کی جا رہی ہے ۔واضح رہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے پاکستان ایران کے ساتھ کھل کر تجارت نہیں کر پا رہا۔