الحمدللہ پاکستان کے پرائم منسٹر عمران خان نے مقدمہ جیت لیا ہے انڈین میڈیا نے خبر گوئی کی ہے کہ انہوں نے جموں اور کشمیر کی 22 کی 2 2 اضلاح سے کرفیو ختم کردیا ہے۔ اور انڈین میڈیا سمیت پورے اس وقت ہر چینل پر یہ خبر بھی جاری ہے 
اب یہاں پہ دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔ کہ کیا انڈین میڈیا جھوٹ بول رہا ہے۔ ہندو بنئے پر کبھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے خبر تو چلا دی ہے کے ہر جگہ کوفیو ہٹا دیا ہے۔ اور سب سے بڑی بات ہے کہ یہ صرف اور صرف عمران خان کے پریشر پر کیا گیا ہے۔ جس طرح انہوں نے مودی اور آر ایس ایس کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ اس کے بعد یہی خبر آئی۔
اب اس میں کتنی صداقت ہے اگر تو یہ بات سچ ہے تو 2 چیزیں آپ اچھی طرح سمجھ لیں کے پورے کشمیر میں طوفان کھڑا ہو جائے گا۔ اور اتنا زبردست طوفان آنے والا ہے کے آپ کو ایک بات یاد آئے گی کے جب تک کشمیر میں برفباری پڑھے گی۔تو یاد ہوگا کہ تقریبا ڈیڑھ مہینے پہلے اس پر بڑی لمبی چوڑی بات ہو چکی ہے۔ اب انڈیا اگر جھوٹ بولتا ہے تو سب سے بڑی بات یہ ہوگی کر فیو ہٹانے کے بعد انٹرنیشنل میڈیا کہے گا کہ وہاں پر جائیں گے اور انٹرنیشنل میڈیا کو اگر آپ جانے کی اجازت نہیں دیتے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ نے جھوٹ بولا ہے۔ اب انٹرنیشنل میڈیا پر جانے کی اجازت نہیں دیں گے تو دنیا اس کو مانے گی نہیں۔
اگر کرفیو ہٹ گیا ہے تو آپ سمجھ لیں کے کشمیر کی جو سڑکیں ہیں۔ وہ بہت بڑے معرکے کے لئے تیار ہونے والی ہیں۔ لوگ چھوڑیں گے نہیں ان کو۔ اب وہاں پر پتہ چلے گا کہ کتنے لوگ مر گئے ۔لوگوں نے لاشیں گھروں میں دفنائی ہیں۔ وہاں پر دوائیوں کا فقدان ہے۔ اسکول بند ہیں۔ہسپتال کا کوئی نظام نہیں۔اور سب سے بڑی بات جو ویڈیو فوٹیج وہاں آئیں گی۔جب وہاں انٹرنیٹ حال کریں گے ۔تو پھر اس کے بعد صورتحال کیا ہوگی کہ انڈیا کے لیے جان بچانا کرنا مشکل ہوجائے گا ۔
لیکن ایک اور بھی صورتحال اور پیدا ہوتی ہے کے اگر انڈین میڈیا نےجھوٹ بولا ہے خبر نشر کردی ہے۔ اور وہاں کوئی ایسی صورت حال نہیں آرہی تو اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اور انٹرنیشنل میڈیا پر یشر ڈالے گا کہ آپ نے کونسا کرفیو یہاں سے ہٹایا ہے۔ آپ نے وہاں پر انٹرنیٹ کی بحالی نہیں کی۔ اگر آپ نے انٹرنیٹ کی بحالی نہیں کی گئی ۔ 
الجزیرہ نے رپورٹ کی ہے سی این این نے کی ہے۔نیو یارک ٹائم نے کی ہے۔ ساری دنیا کے اندر عمران خان کھڑے ہو کر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آپ ایک کام کر یں یو نائیٹڈ نیشن کے نمائندوں کو بھیجیں ۔
اگر وہاں پر کوفیو کے بعد کشمیری باہر نکلے تو مودی کی اتنی زیادہ تباہی ہو جائے گی۔ کہ یہ بچ نہ پائیں گے۔ اچھی طرح سمجھ لیں یہ معاملہ اب رکنے والا نہیں ہے ۔پاکستان نے سارے پتے نہیں کھیلے۔
ابھی ہم نے جو کام کرنا تھا انٹرنیشنل لیول پر ۔وہ اب عمران خان کی تقریر نے کردیا۔ اب انڈیا کیاکرے گا؟ انڈیا دنیا کو کیا جواب دے گا کہ میں نے کشمیر میں کیا کرنا ہے ؟ کرفیو تو ہٹانا ہے نا انہوں نے۔آج نہیں تو کل تو لازمی ہٹانا ہے۔ تو ہٹانے کے بعد جو تباہی آنی ہے۔ تو انہوں نے چھوڑنا تو نہیں ہے کشمیریوں نے۔ جن کے پیارے اس کرفیو میں جنت چلے گئے ۔آپ کو کیا لگتا کہ انڈین فوج کو چھوڑیں گے ؟سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وہ تو پہلے سے زیادہ خونخوار بنیں گے۔ اور اس وقت صورتحال یہ کے بہت ساری اداکاریں اداکار ان کے ماں باپ ان کے لوگ وہاں پر موجود ہیں۔ اب میڈیا کے اندر یہ بات ہوگی کے کرفیو ہٹ گیا ہے تو پھر ہمیں ان سے ملنے دیں۔۔
مثال کے طور پر ز ائرہ وسیم جو ہے ان کا کچھ اتا پتا نہیں ہے۔ ان کے گھر والوں کو آتا پتا نہیں ہے۔ 
اب اگر کرفیو ہٹ گیا ہے تو ساری دنیا کو سب سمجھ آ جائے گا کے بھارتی میڈیا جھوٹ بول رہا یا سچ۔ اگر واقعی میں ہٹ گیا ہے تو پھر انڈیا اپنی تباہی کے لیے تیار ہو جاے۔