India is ready to attack Pakistan

0
1874
India is ready to attack Pakistan
India is ready to attack Pakistan

وزیراعظم عمران خان نے جس موثر انداز میں اقوام متحدہ میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تھا ۔اور عالمی حمایت حاصل کی تھی۔ انڈیا کی طرف سے یہ کہا جا رہا تھا کہ دنیا کی نظریں کشمیر سے ہٹانے کی خاطر وہ ایل او سی پر کچھ نہ کچھ ڈرامہ ضرور کرسکتا ہے۔ اور تازہ ترین خبریں یہ ہیں کہ بھارتی فوج سرحدی علاقوں میں بھاری ہتھیار پہنچا چکی ہے۔
اور تاریخ میں پہلی مرتبہ ، انڈین تاریخ میں پہلی مرتبہ لاہور کے قریب واقع شہر امرتسر میں جنگی طیارے تعینات کیے گیے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی سرحد کے قریب بھی جتنے بھی ہوائی اڈے ہیں وہاں بھارتی فضائیہ نے اپنی جنگی طیارے پہنچا دیئے ہیں۔ 
بلاشبہ انڈیا پر جنگ کا بھوت سوار ہو چکا ہے ۔بھارتی آرمی چیف اور بھارتی حکومت کے وزراء بار بار پاکستان کو جنگ کی دھمکیاں دیتے آرہے ہیں اور بظاہر یہی لگتا ہے کہ انڈیا نے تمام جنگی تیاریاں مکمل کرلی ہیں۔
اس سے قبل یہ کہا جارہا تھا کہ انٹرنیشنل بارڈرز تو نہیں لیکن کشمیر کے علاقے میں ایل او سی پر بھارت کہیں نہ کہیں شرارت ضرور کر سکتا ہے ۔اور وہاں پر لڑائی کا آغاز ہو سکتا ہے ۔تاکہ بھارت دنیا کی نگاہیں کشمیر سے ہٹا سکے ۔
اب نہ صرف انڈین میڈیا دعوی کررہا ہے بلکہ خفیہ اداروں کی رپورٹ کے مطابق بارڈر پر بھارت کی طرف سے غیرمعمولی نقل وحرکت دیکھنے میں آ رہی ہے ۔اور انڈیا کی جنگی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ لاہور کے قریب ترین واقع شہر امرتسر میں جنگی طیارے اتارے گئے ہیں ۔اوروہاں پر تعینات کردیئے گئے ہیں ۔
اس کے علاوہ بھی پاکستان کے بارڈر کے قریب جتنے انڈیا کے ہوائی اڈے ہیں۔ وہاں انڈین ایئر فورس نے اپنے جنگی طیارے پہنچا دیے ہیں۔ اس سے پہلے بھی ایک رشین خفیہ ادارے کی رپورٹ میں منظر عام پر آئی تھیں جن میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انڈیا بہت جلد پاکستان پر ایک محدود پیمانے کا اٹیک کرنے کا منصوبہ بندی کررہا ہے ۔
ان خبروں کو شا ئد پہلے تو اس قدر اہمیت نہ دی جاتی لیکن اگر اس تناظر میں دیکھیں گے جس طرح کل پاک فوج میں کور کمانڈرز کا اجلاس ہوا ہے۔اور اس کے بعد آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ پاکستان کشمیر کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ اور پاکستان بھی بھارت کے کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔
آرمی چیف نے کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے ۔کشمیری بھائیوں کے حق خودارادیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا ۔
اس کانفرنس کے اختتام پر آرمی چیف کے بیانات کو اگر مدنظر رکھا جائے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستانی فوج بھی انڈین آرمی کی نقل و حرکت سے بخوبی اور مکمل طور پر آگاہ ہے۔ اور اگر حال ہی میں کسی نے موٹر وے پر لاہور سے اسلام آباد جانے کا تجربہ کیا ہو تو شیخوپورہ کے مقام پر موٹروے کے درمیان جو ڈیوائیڈر ہیں۔ان کو ہٹا کر جنگی طیاروں کے لیے لینڈنگ سٹرپ سے تیار کر لی گئی ہے ۔
جو اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ اندر خانے پاکستان بھی انڈیا کے کسی بھی کارروائی کا منہ توڑ جواب دینے کیلئے بھرپور تیاریاں کر چکا ہے ۔اور پاک فوج مادر وطن کے دفاع کیلئے مکمل طورپرتیارہے۔ ابھی کل ہی پاک فوج کی جو کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی ہے۔ اس میں علاقے کی صورتحال قومی سلامتی اور مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔کانفرنس میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی غیرملکی سازشوں سے نمٹنے کی کوششوں کی تعریف بھی کی گئیں۔ جبکہ اقوام متحدہ میں تنازعہ کشمیر کو موثر طور پر اجاگر کرنے کو بھی تسلیم کیا گیا ۔
اور عین اس وقت جب انڈیا پاکستان پر حملہ کرنے کی سازش کر رہا ہے ۔منصوبہ بندیاں چل رہی ہیں۔۔ اورپاکستان پر جنگ کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ تو اسی دوران مولانا فضل الرحمان یہ اعلان کرتے ہیں کہ اسلام آباد میں دھرنا دیا جائے گا اس حکومت کو گرا دیا جائے گا ۔یعنی ملک میں عدم استحکام پیدا کیا جائے گا ۔
سوال یہاں پریہ پیدا ہوتا ہے کہ اس ساری کوشش کے پیچھے مولانا کے مقاصد کیا ہیں؟کیا وہ محض اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں یا ان کے اقتدار کی قیمت یہ پورا ملک ہے ؟ہر عقل والا یہ سمجھ سکتا ہے کے مولانا ایک ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔اور غیر ملکی فنڈنگ لے کر ملک کو تباہ کرنے کی ناکام سازش کر رہا ہے۔
اللہ ہمارے ملک کو ایسے فتنوں سے محفوظ رکھے۔آمین