جب مہمان گھر میں آتا ہے تو وہ کچھ نہ کچھ تو تحفے تحائف لے کر آتا ہے یہ ہمیشہ سے رسم چلی ہے اسی طرح جب کسی ملک کا صدر يا پرائم منسٹر کسی دوسرے ملک کے وزٹ پر جاتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی تحفے لے کر آتا ہے۔
انڈیا کے ساتھ اس دفعہ صورتحال ميں بہت بڑی خراب ہوگئی ہے۔ان کے ساتھ بہت بڑا ہاتھ ہو گیاہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ جب انڈیا آرہے ہیں اور جو تحفے وہ ساتھ لے کر آرہے ہيں۔ايک ہی گولی سے انہوں نے تين شکار کيے ہيں۔ وہ انڈیا کو ہمیشہ یاد رہے گا۔
انڈیا کوجی ٹونٹی کے ممبر کی لسٹ سے نکال دیا گیا ہے امریکہ کی جانب سے یہ لسٹ کیا گيا ہے۔ اس لسٹ کے اندر دراصل جی 20 ممبرز ہيں۔ کہ ڈيويلپمنٹ ملک کون کونسے ہيں۔ ان ملکوں کو خاص طور پر بينيفٹس ملتے ہیں ان کو امپورٹ ایکسپورٹ کے حوالے سے ۔پوری دنیا ان کی بات مانی جاتی ہے۔ اس ميں انڈیا کو شامل کیا گیا تھا۔ لیکن مودی سرکار میں جو اکانومی کی ایسی کی تيسی ہے جو اکانومی کا ستیاناس کیا ہے۔
ان کی اصل ميں پر کپيٹا انکم 2000ڈالر ہے۔ جبکہ انکو جو ريکوئر تھی وہ 12000 اور کچھ ڈالر ز تھی۔اور کئی سالوں سے ان کو جی ٹونٹی میں ڈالا ہوا تھا۔اور مودی کہہ رہا تھا کہ ميں اس کو بہتر کروں گا وہ بجائے بہتر ہونے کے بری طرح گر رہی ہے۔
سب سے پہلے امریکہ نے انڈیا کو نکال دیا اس سے انڈیا کو بے تحاشہ نقصانات اٹھانے پڑے گے۔
یہ تو ایک خبر ہوگئی ہے دوسری خبر جو اس سے بھی بڑی ہے کہ 260 ملین ڈالر کا فائن انڈیا پر لگا دیا ہے ۔امریکہ کی جانب سے يہ انڈيا کو ڈونلڈ ٹرمپ کا تحفہ ہے
اس جی ایس پی سسٹم کے تحت امریکہ بہت زیادہ بینیفٹ دیتا تھا انڈیا کو۔
انڈیا ایکسپورٹ کرتا تھا بہت ساری چیزیں اس کو بینیفٹ دیتی تھی اور اس پر سب سے زیادہ جھٹکا يہ لگا ہے کہ ان کے ٹیرف کے جو ریٹ سے خاص طور پر امریکہ کی اپنی انڈسٹری خراب ہو رہی تھی لوکل کی انڈیا سے مال منگواتے تھے اور سستا پڑتا تھا ۔فری ٹريڈ سے انڈيا کو نکال ديا ہے اور اب انڈيا کو تين لاکھ نوکريوں کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔
يہ ٹرمپ کی جانب سے انڈیا کو تحفہ ہے جو اسے ہميشہ ياد رہے گا۔