جنرل اسمبلی میں دھواں دار تقریر کے بعد عمران خان کی جان کو شدید خطرات لاحق ہوچکے ہیں ۔اور ان کے خلاف انڈیا میں پہلی مرتبہ اور تاریخ میں پہلی مرتبہ بھارتی عدالت میں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے ان کی جان کو خطرہ کیسے ہے؟ اور کیوں عمران خان کے خلاف مقدمہ درج کیا ؟
اقوام متحدہ میں عمران خان صاحب کی تقریر کے بعد یہ اطاعات آرہی ہیں کہ بیرون ملک سے لوگ اور ملک ایسے ہیں جو زیادہ تر عمران خان کو پسند نہیں کرتے۔ 
عمران خان کے بارے میں یہی گمان کیا جا رہا تھا کے وہ عالم اسلام کے مسائل کو اس قدر دلیری سے نہیں اٹھائیں گے ۔لیکن اقوام متحدہ میں تقریر کے بعد اقوام عالم پر یہ بات واضح ہوگئی کہ پاکستان اب عالم اسلام کے مسائل بھی بات کی کیا کرے گا۔
اوراس تقریر کے بعد پاکستان کے سکیورٹی اداروں کی خفیہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں جن سے معلوم ہوا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نیازی کی جان کو انتہائی خطرات ہیں ۔اقوام متحدہ سے ان کے واپس وطن آتے ہی ان کی سکیورٹی غیر معمولی طور پر بڑھ گئ ہے۔ پاکستان کے دفاعی ادارے اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی دن رات ان کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے لگے ہیں۔ اگر پاکستان کی تاریخ کی بات کی جائے تو ضیاءالحق اور بے نظیر بھٹو کو کس طرح لوگوں کو شہید کیا گیا ۔جب پاکستان اپنی تاریخ کے اہم ترین دور میں تھا ۔ جب پاکستان دنیا میں بڑے فیصلے کرنے والا تھا ۔صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ عالم اسلام کے بہت سارے لیڈران کو اسی طرح سے موت کے گھاٹ اُتارا گیا ۔یہی وجہ ہے کہ طیب اردوان بھی اب انتہائی سیکیورٹی میں رہتے ہیں۔ 
اور وزیراعظم پاکستان عمران خان کی جان کو لاحق خطرات کی بات کی جائے تو جن ممالک کے نام سامنے آرہے ہیں ان میں بھارت اور بھارت کے روایتی حلیف اسرائیل ہیں۔ یہ جان لیں کہ یہ دونوں ممالک مل کر عمران خان کو راستے سے ہٹانے کی کوشش کریں گے۔ جبکہ دوسری جانب معروف صحافی و تجزیہ کار ڈاکٹر شاہد مسعود نے کہا ہے کہ چند روز قبل میں شام کے وقت بنی گالا گیا ۔تو وہاں میری ملاقات عمران خان صاحب کے گارڈ سے ہوئی۔تو بنی گالہ اس وقت مکمل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔
جس پر میں نے اسے دریافت کیا تو انہوں نے کہا صاحب کہتے ہیں کہ میں یہیں رہوں گا ۔پاکستان کے ادارے جتنی سکیورٹی کرسکتے ہیں ۔وہ ہم نے دی ہوئی ہے۔ پھر میں نے سوچا کہ اگر عمران خان وزیراعظم ہاؤس یا کہیں اور رہتے تو وہاں پر یقین سکیورٹی بھی زیادہ ہوتی ۔لیکن بنی گالا مکمل تاریکی میں تھا اس قدر تاریکی تھی کہ جہاں پر گاڑی روکی اور جہاں میری عمران خان سے ملاقات ہوئی ۔تو سکیورٹی اہلکار ٹارچ دکھاتے ہوئے لے کر جا رہے ہیں ۔مکمل گھپ اندھیرا تھا ۔آگے گیا تو اندر تھوڑی سی روشنی تھی یہاں وزیراعظم عمران خان بیٹھے ہوئے تھے ۔

امریکہ اور اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ اس انسان کو راستہ سے ہٹایا جائے ۔اور اگر کسی غدار وطن سیاستدان سے کام نہ ہوسکا تو پھر کوشش کی جاتی ہے کہ اس کو اس دنیا سے ختم کردیے جائے۔یعنی اس کو برباد کر دیا جائے ۔
سیکیورٹی ادارے کے مطابق آپ کو پتا چلے کہ ایسی بہت سارے واقعات امریکہ میں بھی ہوچکے ہیں۔ بلکہ پاکستان میں بھی ایسی بات کہیں نہ کہیں تو دیکھی جاچکی ہیے۔ سر سیداحمد خان اور محترمہ فاطمہ جناح کو بھی اسی طرح سے ختم کروا دیا گیا۔اور ذوالفقار علی بھٹو ۔ضیاء الحق اور بے نظیر کو بھی بیرونی منصوبہ بندی سے رستے سے ہٹا دیا گیا۔
ہماری عمران خان سے ریکویسٹ ہے کہ آپ اپنی زندگی کو مکمل سیکیورٹی میں رکھیں۔ اور پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے بھی بات کی ہے کہ وہ عمران خان کی سکیورٹی پر پورا دھیان دیناچاہے ۔اس کے لئے ہمارے بجٹ سے جتنے بھی پیسے اضافی لینے پڑیں تو بھی منظور ہے۔
کیونکہ ایسا لیڈر بڑے عرصے کے بعد ملتا ہے اور یہ لیڈر پاکستانی عوام کے لیے رحمت کا پہاڑ بن کر سامنے آیا ہے۔
اب عمران خان کو ایک طرف پوری دنیا میں سراہا جا رہا ہے تودوسری جانب عمران خان کے خلاف بھارتی عدالت میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز بھارت نے بہار کے مظفر پور میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف کیس درج کیا گیا ہے۔ وکیل نے مظفرپور میں چیف جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف شکایت کرتے ہوئے یہ الزام عائد کیا کہ وہ اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران بھارت کے خلاف جنگ کے لیے عوام کے دلوں میں زہر اگل رہے ہیں۔وکیل کمار نے استدعا کی کہ اس کی شکایت پر عمران خان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت کریں۔ بھارت نے اپنی درخواست میں کہا کہ آرٹیکل 370 کو ختم کرنے کے حوالے سے بھارت کے خلاف بیان سے صرف ایک طبقے کے لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی ہے ۔جس نے ملک میں عدم استحکام پیدا ہونے کا خدشہ ہے ۔ خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی بھی خطاب میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے اور بھارتی مظالم کو بے نقاب کرنے پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے مسلمانوں نے زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کی جدوجہد ضرور کامیاب ہوں گی۔