پاکستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے فکرمند اسد شمیم آخر کون ہیں؟
پاکستانی نژاد برطانوی بزنس مین فرنیچر ان فیشن کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔جو برطانیہ میں فرنیچر کی صف اول کی کمپنی ہے ۔اسد شمیم حال ہی میں قائم ہونے والی تنظیمکے بانی بھی ہیں۔جس کا مقصد ملک میں قانون کی حکمرانی کے لیے جدوجہد کرنا ہے ۔اسد شمیم کا شمار برطانیہ کے بڑے اسپورٹس پرموٹر میں ہوتا ہے۔ انہوں نے شوگر میں مبتلا باکسر محمد علی کو برطانوی قانون میں ترمیم کے ذریعے پر وفیشنل فائٹر بنایا ۔اور اسے لائسنس دلایا۔جو کہ ایک تاریخی کارنامہ ہے ۔کیونکہ برطانیہ کے دو صدیوں پرانے قانون میں ترمیم قانونی امور میں مہارت رکھنے والا شخص بھی کروا سکتا ہے۔ یہی نہیں انہوں نے برطانیہ میں بہترین بزنس میٹر کی ایوارڈ جیت کر ملک وقوم کا نام روشن کیا ۔ایشیئن بزنس لیڈرشپ مسلم ایوارڈ جیتنے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے کی کوششوں میں بھی پیش پیش ہیں۔
کراچی کے ایک اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسد شمیم 29 برس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو پاکستان کی جانب راغب کرنے کے لیے متحرک ہیں۔ایک واقعےکے مطابق 2001 میں ان کی اس وقت وزیر خزانہ شوکت عزیز صدیقی پاکستان جاتے ہوئے جہازمیں ملاقات ہوئی۔ اس دوران شوکت عزیز نے ان سے کہا آپ نے پاکستان میں سرمایہ کاری کانفرنس کا انعقاد کرنا ہے ۔ملک کے لیے کچھ کرنے کی چاہ میں اسد شمیم نے برطانیہ میں پولیس کو فارماسیوٹیکل کمپنیوں ،بینک اور سرمایہ کاروں سمیت تمام ایلیٹ کمپنیوں کے پاکستان جانے پر آمادہ کیا۔ لیکن پھر 9/11 کا واقع ہوا۔جس کے باعث انویسٹمینٹ کانفرنس منسوب ہوگئی۔ اس صورتحال کا انہیں بہت افسوس ہوا ۔بہرحال اسد شمیم اب بھی چاہتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بنے۔ تاہم ملک میں قانون کی بالادستی نہ ہونے کی وجہ سے غیرملکی کمپنیاں سرمایاکاری کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے عمران خان سے اپیل کی ہے کہ قانون کی عملداری یقینی بنائی جائے، اور غریب اور امیر کے لیے انصاف کا میعار یکساں ہو۔لوگوں کا اعتماد بحال کرنے کے لیے اداروں کو بہتر کیا جائے۔ اور ملک سے قبضہ مافیہ کا خاتمہ کیا جائے ۔کیونکہ اس سےسمندر پار پاکستانی بہت زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ 
اسد شمیم کا ماننا ہے کہ جب تک ادارے لوگوں کی جان ومال کا تحفظ یقینی نہیں بنائیں گے ،اور یہ ان کی ترجیح نہیں ہوگا، پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے راہ ہموار نہیں ہوسکے گی ۔
اسد شمیم نے صورت حال پر ایک شعر میں یوں تبصرہ کیا کہ 
اٹھو میری دنیا کے غریبوں کو جگا دو 
ان اداروں کے درودیوار کو ہلا دو 
جن اداروں سے نہ میسر ہو انصاف 
ان اداروں کے سربراہوں کو الٹالٹکا دو۔