ویسے تو سورۃ کوثر کے متعدد وظائف ہیں۔ آج کے اس آرٹیکل میں ہم آپ کو اس مختصر اور مبارک سورت کا وظیفہ بتانے والے ہیں۔ اس وظیفے کے آپ کو دو بڑے فائدے حاصل ہوں گے۔ پہلا فائدہ تو یہ ہوگا کہ اللہ تعالی آپ کے ہر کام میں آسانی پیدا فرمائے گا ۔ اور اس کا دوسرا جو فائدہ ہوگا وہ یہ ہے کہ بدترین سے بدترین دشمن بھی آپ کے پیروں میں گر کر معافی مانگے گا ۔سورہ کوثر بڑے فضائل و برکات کی حامل سورت ہے جس کی فضیلت خاص طور پر احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بیان ہوئی ہے۔ اس مبارک سورت کا خاص وظیفہ آپ نے کیسے اور کس وقت کرنا ہے اس بارے میں مکمل تفصیل جاننے کے لئے آپ سے التماس ہے کہ آرٹیکل کو آخر تک ضرور پڑھیئے گا۔ سورۃ کوثر قرآن کریم کی ایک سو آٹھ سورت ہے ۔اور یہ مکی سورتوں میں سے ہے ۔جو کے آخری پارے میں واقع ہے۔ یہ سورت قرآن کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ اس صورت کو اس بنا پر کوثر کہا جاتا ہے کہ اس کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالی کی جانب سے اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کوثر عطا کرنے کا ذکر ہے۔ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کو اس عظیم نعمت کے شکرانے کے طور پر نماز پڑھنے اور قربانی کا حکم دیا گیا ہے مفسرین نے کوثر کے بہت سارے معانی کی طرف اشارہ کیا ہے ان میں حو ض کوثر بہشت، خیر کثیر نبوت ،قرآن استاد کی کثیر تعداد اور شفاعت وغیرہ مشہور ہیں، اس سورت کے شان نزول میں آیا ہے کہ آس بن وائل نے، جو مشرکین کے ساتھ داروں میں سے تھا پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم سے مسجد الحرام سے نکلتے وقت ملاقات کی اور کچھ دیر تک آپ سے بات کرتا رہا ۔قریش کے سرداروں کا ایک گروہ مسجد میں بیٹھا ہوا تھا انہوں نے دور سے منظر کا مشاہدہ کیا ۔جس وقت آس بن وائل مسجد میں داخل ہوا تو انہوں نے اس سے کہا تو کس سے بات کر رہا تھا اس نے کہا اس ابتر شخص سے۔اس نام سے اس لیے کا کیا کہ پیغمبر اکرم کے فرزند عبداللہ دنیا سے رخصت ہو چکے تھے ۔عرب میں ایسے آدمی کو جس کا کوئی بیٹا نہ ہوا ابتر کہا کرتے تھے ۔یعنی بالا کب تک تو نسل لہذا قریش نے پیغمبرصلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند کی وفات کے بعد اس لقب کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے انتخاب کر رکھا تھا۔ جس پر یہ سورت نازل ہوئی۔ نبی ص کو بہت سی نعمتوں اور کوثر کی بشارت دی ۔اور ان کے دشمنوں کو جواب میں ابتر کر کہا۔ یہ سورت جو کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو جواب کے طور پر نازل ہوئی ہے ۔اسی لئے اس کا وظیفہ ہے دشمن کے خلاف بہت ہی مجرب کیا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے اکابرین نے اس صورت کو دشمنوں کے مقابلے میں پڑھنے کی تلقین کی ہے ۔آئیے اب چلتے ہیں آج کے وظیفے کی جانب اور آپ کو بتاتے ہیں کہ آپ نے یہ وظیفہ کیسے کرنا ہے ۔جیسا کہ پہلے بھی آپ کو بتایا ہے کہ اس وظیفے کے دو بڑے فائدے ہیں ۔جن میں ایک یہ ہے کہ دشمن سے نجات اور فلاح کے لیے یہ وظیفہ بہت مجرب ہے۔۔ یہ وظیفہ لوگوں کے لیے ہے جو اپنے دشمن سے پریشان ہیں۔ ان کا دشمن ان سے طاقتور ہے ۔اور اپنے دشمن پر بس نہیں پہنچتا ۔اور اس کے ساتھ آپ کسی مشکل یا پریشانی میں پھنسے ہیں ۔تو بھی اس وظیفے کو اللہ تعالی آپ کے لئے آسانی پیدا کرے گا ۔ کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے دشمن کی وجہ سے عاجز ہو تو ایسا شخص اس وظیفے کو لازمی کرے ۔اس کے گھر میں سے کوئی بھی پڑھ کر سکتا ہے چاہے مرد کریں یا عورت یہ وظیفہ دشمن کی ہلاکت اور بربادی کے لئے ہے ۔آپ کا دشمن جو آپ کو تنگ کر رہا ہوں یا آپریشن جان کر رہا ہوں تو اس وظیفے کو کریں گے انشاء اللہ دشمن کو پریشانی میں مبتلا ہوجائے گا۔ اس وظیفے کا طریقہ یہ ہے کہ رات کو عشاء کی نماز کے بعد آپ نے 313 مرتبہ اس سورت کو پڑھنا ہے ۔اس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ نے اس جگہ کا انتخاب کرنا ہے ۔جہاں پر تنگ کرنے والا نہ ہو اور مکمل خاموشی ہو ۔آپ نے اس وظیفہ کو تعوذ اور تسمیہ کے ساتھ شروع کرنا ہے ۔اور پھر اس کے بعد ہر بار اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔البتہ کو پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ نے سورۃ کی تیسری آیت ان شانئک ہو الابتر کو تین بار پڑھنا ہے ۔اور یاد رہے کہ اس آیت میں دشمنوں کی مذمت ہے۔اس لیئے اسکو پڑھتے وقت، جو بھی دشمن ہیں ان کا اپنے ذہن میں تصور کرنا ہے ۔اور یاد رہے کہ ہر بار آپ نے سورۃ کو اس طرح سے پڑھنا ہے کہ تیسری آیت کو تین بار پڑھنا ہے ۔اور اس طرح سے آپ نے تین سو تیرہ بار مکمل کرنا ہے ۔جب یہ تعداد مکمل ہو جائے گی ،تو پھر دشمن کا تصور کرکے اس کے اوپر پھونک مار دیں۔ اور اس کے بعد اللہ سے اپنی حفاظت کے لیے اور دشمن سے پناہ کے لیے دعا کریں ۔ اس عمل کو کس دن کرنا ہے ؟اور اس کی برکت سے آپ خود مشاہدہ کریں گے کہ آپ کو اپنے دشمن سے ہم حاصل ہو گا۔ آپ کے دشمن چاہتے ہوئے بھی انشاءاللہ آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا ۔ لہذا اس عمل کو اپنے تمام دوستوں کے ساتھ لازمی شیئر کریں تاکہ جس کسی کو اس عمل کی حاجت ہو وہ اس سے استفادہ کر سکیں۔