آیاصوفیہ کے افتتاح کے بعد صہیونی طاقتیں جان گئی تھیں کہ فیصلہ کن جنگوں کا آغاز ہوچکا ہے۔ طیب اردگان مسلم امہ میں انتہائی مشہور لیڈر مانے جاتے ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ دبنگ لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ درد دل رکھنے والے انسان بھی ہیں۔ ترکی کو قدرتی خزانے ملنا امت مسلمہ کے لیے ایک بہت اچھا شگون ہے۔ آپ یقین کریں اس سے قبل کویت عراق عرب ممالک تیل سے مالا مال ہیں۔ لیکن اس کے باوجود امت مسلمہ کے کئی ممالک غیر مسلموں کے آگے ہاتھ پھیلاتے رہتے ہیں ۔اس کی اصل وجہ ان عرب ممالک عیاش بادشاہ ہیں جن کو مسلم کی تو کوئی فکر نہیں لیکن اپنی بادشاہت اور عیاشی کی فکر ہمیشہ رہتی ہے ۔لیکن اب اللہ نے بڑا کرم کیا۔ اور ایک ایسے ملک کو اپنے خزانے سے مالا مال کر دیا جس کا لیڈر انتہائی درد دل رکھنے والا انسان ہے ۔اور بالخصوص اپنے برادران اسلامی ممالک کا ہمیشہ دل و جان سے خیال بھی رکھتا ہے۔ ترکی کو خزانہ ملتے ہیں اردگان نے گریٹر اسلام سے متعلق کون سا بڑا اعلان کردیا گیا ؟ سعودی عرب کی واقعی چھٹی ہونے والی ہے ؟ کیا پاکستان ترکی مل کر ایک نئے اسلامک بلاک کی بنیاد رکھنے جا رہے ہیں ؟ کیا ترکی کو خزانہ ملنے کے بعد اسرائیل اور امریکہ مل کر ترکی پر جنگ مسلط کرنے جا رہے ہیں ؟ پاکستان کو 5 سال تک مفت تیل دینے کا اعلان کس ملک نے کیا ؟ ترکی کے ہاتھ خزانہ لگ گیا۔ طیب اردگان نے امت مسلمہ کو بڑی خوشخبری سنا دی ۔ترک صدر رجب طیب اردگان نے اعلان کیا کہ بحر اسود کے ساحل کے قریب قدرتی گیس کا بہت بڑا ذخیرہ دریافت ہوا ہے ۔اردگان نے اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ گیس کا جو ذخیرہ دریافت ہوا ہے اس کی مقدار تین سو بیس ارب کیوبک میٹر ہے۔ آپ گیس کےقدرتی ذخیرے کا اندازہ اس بات سے لگاسکتے ہیں، کہ ترکی پورے سال میں صرف اٹھارہ ارب کیوبک میٹر گیس استعمال کرتا ہے۔ جبکہ ترکی کو ملنے والے گیس کے قدرتی ذخائر کی مقدار 320 کیوبک میٹر ہے۔ مطلب تین سو بیس ارب کیوبک فٹ گیس بہت زیادہ ہوتی ہے ۔دراصل جس جگہ سے ترکی کو یہ گیس ملی ہے۔ وہ بلیک سی کے اس حصے میں واقع ہے جہاں گریس ترکی کے بالکل ساتھ لگتا ہے ۔گریس ایسی جگہ پر واقع ہے جہاں گریس کے پیچھے فرانس سعودی عرب اور اسرائیل بھی شامل ہیں ۔ اب غیر مسلم طاقتوں کا مقصد ہے کہ گیس کے ذخائر پر ترکی کو جنگ میں دھکیل دیا جائے ۔تا کہ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ مطلب یہودی طاقتیں چاہتی ہیں کہ ترکی کو یہیں روک دیا جائے۔ کیونکہ اگر کئی مسلم ممالک میں ترقی کرنے لگ گیا تو پھر امت مسلمہ کے دن پھر جائیں گے۔ ترک صدر طیب اردگان نے اپنی تقریر میں اس بات کا واضح اعلان کیا تھا کہ ترکی اس گیس سے حاصل ہونے والا زرمبادلہ دیگر اسلامی ممالک پر بھی خرچ کیا کرے گا ۔تاکہ انہیں بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جا سکے ۔ بحراسودمیں ترکی کو صرف قدرتی گیس کے ذخائر ہی نہیں ملے بلکہ تیل سمیت دیگر قیمتی معدنیات کا ذخیرہ بھی ترکی کو مل چکا ہے ۔جس کا فی الحال اس وقت اس لیے اعلان نہیں کیا گیا تاکہ فوری طور پر غیر مسلم طاقتیں ترکی پر جنگ مسلط نہ کر دیں۔ دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ ترکی کے ہاتھ کا نہ لگنا بالکل ایسے ہی ہے جیسے پاکستان کے ہاتھ خزانہ لگ گیا ہو۔ کیونکہ ترکی ایک ایسا برادر ملک ہے جس میں کشمیر ایشو سمیت ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے ۔اب بات سمجھنے والی ہے اگر ترکی سے تیل نکالنے کا اعلان کردیا جاتا ہے۔ تو پھر یقین کریں سعودی عرب تو کنگال ہو جائے گا۔ پھر کم از کم سعودی عرب پاکستان کو تیل کو لے کر بلیک میل نہیں کرسکے گا ۔کیوں کہ طیب اردگان ایسے لیڈر ہیں جو پاکستان پر جان تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ سی پیک کو لے کر خطے میں اچانک ڈرامائی تبدیلی آگئی ہے ۔ایران نے حکومتی سطح پر سی پیک کے حوالے سے ایسا اعلان کردیا جس کے بعد سعودی عرب کی طرف سے شدید ردعمل دیکھنے کو مل رہا ہے۔ حالیہ اعلان کے بعد سعودی عرب آگ بگولا ہو چکا ہے ۔سی پیک کے حوالے سے ایران چین اور پاکستان میں ایک تاریخی معاہدہ طے پانے جا رہا ہے۔ اسی حوالے سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی ہنگامی بنیادوں پر چین کا دورہ کرنے گئے تھے۔ جس کے بعدایران نے اس تاریخی معاہدے کی تفصیلات شیئر کر دی ہے ۔جس کے بعد سعودی عرب کی چھٹی ہونے والی ہے۔ آخر اس معاملے میں ایسا کیا ہے جس سے سعودی عرب کتنا گھبرایا ہوا ہے۔ چین کی طرف سے ایران میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کے بعد مشرق وسطیٰ کی صورتحال یکسر تبدیل ہو کر رہ گئی ہے ۔جہاں چین نیپال بنگلہ دیش کو اپنے ساتھ ملا کر مودی کی بولتی بند کردی تھی ۔بالکل ایسے ہی چین اور ایران سمیت عرب ممالک کو اپنے ساتھ ملا کر امریکہ کی بولتی بند کرنے والا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ چین کے خوف کی وجہ سے امریکہ سعودی عرب بیوی کو بڑی بڑی بڑی آفریں کر رہا ہے۔ تاکہ سعودی عرب متحدہ عرب امارات امریکی بلاک میں سے نکل کر جینی بلاک میں شامل نہ ہو جائیں۔ لیکن ایران نے اب چین کے ساتھ کھڑا ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ایران اپنے تمام تر وسائل کے ساتھ پاک چین گیم چینجر منصوبے سے سی پیک میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ لیکن ایران کے اس اعلان سے قبل 2019 میں سعودی عرب نے گوادر میں آئل ریفائنری لگانے کا اعلان بھی کیا تھا۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب کی جانب سے اس منصوبے میں تاخیر کی جاتی رہی ہے ۔لیکن چین نے افسروں دیر کو سائیڈ لائن کرتے ہوئے ایران کے ساتھ مل کر اس منصوبے کو مکمل کرنے کا پلان دے دیا ہے ۔جس کے تحت ایران نہ صرف پاکستان کو تکنیکی مدد فراہم کرے گا بلکہ پاکستان کو پانچ سال کے لیے انتہائی کم قیمت پر تیل مہیا کرے گا ۔جس کے بدلے میں ایران کو پاکستان چین سی پیک منصوبہ میں شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔سعودی عرب کے بعد پاکستان کے تیل کی کمی اب ایران بلا کسی سود کے ساتھ پورا کیا کرے گا ۔