پاکستان نہیں بلکہ بھارت کے بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات ۔تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی سازشیں کرنے والا بھارت خود مشکل میں پھنس گیا ہے ۔رپورٹ  کے مطابق بھارت کا پاکستان مخالف پروپیگنڈا خود بھارت کے لیے خطرہ بن گیا ہے پاکستان نہیں بلکہ بھارت کے بلیک لسٹ میں جانے کر بہت زیا د ہ ا مکا نا ت  روشن ہو گئے ہیں۔ پاکستان آئندہ سال کی پہلی ششماہی میں نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔ یعنی کہ جون 2021 سے پہلے پہلے گرے لسٹ سے نکل سکتا ہے۔ پاکستان ایف اے ٹی ایف کی وائٹ لسٹ میں آتے ہی تنظیم کا رکن بننے کا بھی اہل ہو جائے گا۔ جبکہ ایف اے ٹی ایف دو ہزار اکیس  2021کی پہلی ششماہی میں بھارتی کارکردگی کا مجموعی جائزہ بھی لے  گی۔ بھارت سے منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی فعال  مالی معاونت کے معاملات پر جوابدہی سرفہرست ہوگی بھارت کے 44 بینکوں کی منی لانڈرنگ، ٹیرر فائریسنگ   ٹاسک فورس کے لیے مرکز سے نگا  ہ گی۔ کچھ روز قبل ہی ایک امریکی رپورٹ میں انکشاف ہوا تھا کہ بھارت کے 44 بینک منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں ۔اس حوالے سے پاکستان کی جانب سے بھی بھرپور انداز میں آواز بلند کی گئی ۔چیئرمین قائمہ کمیٹی داخلہ رحمان ملک نے صدر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو خط لکھا ہے۔ جس میں صدر  ایف ا ے ٹی ایف کو بھارت کو بلیک لسٹ   میں  شامل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ امریکی رپورٹوں کی تحقیق کے تحت بھارت 44 بینک منی لانڈرنگ میں ملوث ہیں امریکی بینکوں نے ایف سی ای این  کو بھارتی بینکوں کی تفصیلات دے دی ہیں۔ جس کے بعد اب بھارت کے خلاف میں انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔