جہاز کو محو پرواز دیکھ کر اس میں سفر کرنا تو ہر کسی کا خواب رہا ہے مگر آج ہم يہاں بيان کريں گے کہ جہاز گزرنے کے بعد آسمان پر سفید رنگ کی جو لکير کيوں بنتی ہے۔؟؟ وہ کس وجہ سے بنتی ہیں؟ اور مزید یہ کہ جہاز کی لینڈنگ کے دوران کانوں میں درد کیوں محسوس ہوتا ہے۔؟
جب گرم ہوا اچانک ٹھنڈی ہوجائے تو فوق کی شکل اختیار کر لیتی ہیں اور جو کہ جہاز کے سیلنڈر بلاک میں پیٹرول اوکسیجن کا آمیزہ چلتا ہے اور جہاز منزل کی طرف رواں دواں ہوتا ہے اس عمل ميں آکسيجن کا کچھ حصہ جلنے سے بچ جاتا ہے اور یوں یہ گیس سیلنسر کے ذریعے باہر نکلتے ہی ٹھنڈی ہو جاتی ہے اور فوگ کی ايک لکیر بن جاتی ہے جہاز کی لینڈنگ کے دوران یہ عمل سرد موسم میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔
اب بات کرتے ہیں جہاز کی لینڈنگ کے دوران کانوں میں ہونے والی تکلیف پر۔ ہوائی جہاز جب زمین پر ہوتا ہے تو اس کے اندر اور باہر ہوا کا دباؤ برابر ہوتا ہے اور اڑنے کے بعد جیسے جیسے جہاز فضا میں بلند ہوتا ہے تو باہر ہوا کا دباؤ کم ہوجاتا ہے اور یہ جہاز کے اندر مسافروں کی سہولت اور انہیں زندہ رکھنے کے لیے مصنوعی طور پر ہوا کا دباؤ قائم کیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ جہاز کی کھڑکیاں نہیں کھولی جا سکتی ۔ اور دروازے بھی بند کردیے جاتے ہیں جب ہوائی جہاز کی لینڈنگ کی جاتی ہے تو اترنے سے چند منٹ پہلے یہ مصنوعی دباؤ ختم کردیا جاتا ہے اور یوں ایک بار پھر جہاز کا اندرونی دباؤ باہر کے دباؤ کے برابر ہوجاتا ہے اور جیسے جیسے باہر ہوا کا دباؤ کم ہوتا جاتا ہے اسی طرح جہاز کے اندر بھی ہوا کا دباؤ کم ہوتا جاتا ہے جو کہ انسانی کان کے اندرونی حصے میں کام کے پردے کے پیچھے بھی ہوا ہوتی ہے جس کا دباؤ باہر کے دباؤ سے زیادہ ہے اور يہ ہوا کان کے پردوں پر دباؤ اس لئے یہ ہوا کام کے پردوں پر دباؤ ڈالتی ہیں جس سے کان بند ہوتے محسوس ہوتے ہیں اور اگر ان میں بیماری يا الرجی کی وجہ سے پہلے سوجن موجود ہو تو اس وقت کانوں ميں درد بھی ہونے لگتا ہے۔