کون سے کابینہ کے وزیر فارغ ہو رہے ہیں؟؟

0
1992

کابینہ میں رہنا ہے تو کام کرنا پڑے گا ۔جو کام نہیں کرے گا وہ گھر جائے گا ۔
وزیراعظم پاکستان عمران خان نے اسی وژن کے تحت کام کررہے ہیں اس لئے تو ابھی حکومت کا ایک سال مکمل ہوتے ہی کابینہ میں ایک بار پھر ردوبدل کی تیاری کی جارہی ہے ۔کسی کو گھر بھیجا جائے گا تو کسی کی ذمہ داریاں تبدیل ہونگی۔ اور کسی کو کابینہ میں واپس لایا جائے گا ۔
وزیراعظم عمران خان نے کابینہ میں تبدیلی کا فیصلہ اس وقت کیا جب پارٹی کے رکن قومی اسمبلی ارباب عا مر وزیراعظم کو وزراء کی شکایت لگاتے ہوئے آبدیدہ ہوگئے۔ اور جذباتی ہوکر اجلاس سے اٹھ کے جانے لگے تو وزیراعظم نے روکتے ہوئے کہا کہ جن کی کارکردگی ٹھیک نہیں۔میں انہیں تبدیل کر رہا ہوں۔
اس کے فورا بعد وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کا بینہ سے آٹھ سے دس وزرا تبدیل کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود کو وفاقی وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا جانے کا امکان ہے ۔علی محمد خان کو وزیر مملکت برائے پارلیمانی امور سے ہٹائے جانے کا امکان ہے۔ اس وقت وزیر داخلہ کا قلمدان ریٹائرڈ اعجاز شاہ کے پاس ہے۔ جس کی تعیناتی پر اپوزیشن کی جانب سے بھی کڑی تنقید کی گئی تھی ۔ وفاقی وزیر برائے دفاعی پیداوار زبیدہ جلال کو وزیر تعلیم بنائے جانے کا امکان ہے۔ جبکہ وزیراعظم کی معاون خصوصی اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کو ندیم افضل چن کی جگہ وزیراعظم کی ترجمان بنائے جانے کا امکان ہے۔ ڈاکٹر بابر اعوان کو مشیر بنائے جانے کا امکان ہے ۔ تاہم وہ مشیر کے بجائے سینیٹر بننے کے خواہشمند ہیں۔
سابق وفا قی وزیر خزانہ اسد عمر کی کابینہ میں واپسی متوقع ہے۔ اور انہیں وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم بنائے جانے کا امکان ہے۔تحریک انصاف کی حکومت بننے کے بعد اسد عمر کی وفاقی کابینہ میں وزیرخزانہ کی حیثیت سے شامل تھے لیکن 18 اپریل کو اچانک عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ وزیراعظم عمران خان نے تو انائی کی وزارت دینے کا کہا تھا لیکن اسد عمر نے کابینہ میں نا رہنے کا فیصلہ کیا۔ اب اسد عمر قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئر مین ہیں۔
سابق وزیر اطالات ٰ اور موجودہ وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری کی ایک بار پھر وزارت تبدیل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سے قبل ان کے پاس اطلاعات و نشریات کا قلمدان تھا ۔سینٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم حسین کووزیر مملکت بنانے کا امکان ہے صرف وفاقی کابینہ ہی نہیں وزیراعظم عمران خان نے پنجاب میں بھی بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کا فیصلہ کرلیا ہے ۔اور متعدد وزراء کو فارغ کرکے نئے وزرا لائے جائیں گے۔

آئی جی پنجاب سمیت پولیس میں بھی بڑے عہدوں پر تبدیلیاں کی جائیں گی ۔ جبکہ پنجاب کی بیوروکریسی میں بھی متعدد کو تبدیل کیا جائے گا۔
ان کی جگہ ایسے لوگوں کو لایا جارہا ہے جو گزشتہ حکومت میں پولیس اور بیوروکریسی میں اہم کردار ادا کرتے رہےہیں ۔
اس حوالے سے وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کو اسلام آباد طلب کیا تھا جہاں ان کے درمیان پارلیمنٹ ہاؤس میں عمران خان کے چیمبر میں ملاقات ہوئی۔ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے ساتھ سرکاری اداروں کا بھی قبلہ درست کرنے کی ٹھان لی ہے۔اور سرکاری اداروں کی جانب سے شہریوں کو خدمات کی فراہمی میں تاخیر کا نوٹس لے لیا۔ وزیراعظم آفس کی جانب سے کہا گیا کہ لائسنس ۔این او سی اور ڈومیسائل کے حصول کے لیے شہریوں کی بے شمار درخواستیں تعطل کا شکار ہیں۔ 
ادارے اپنی ویب سائٹ یا نوٹس بورڈز پر سروے سے متعلق ٹائم لائن چسپاں کریں ۔اس کا لگانے کا مقصد یہ ہے کہ شہریوں کو معلوم ہو کہ ان کی درخواست پر کتنا کام ہو چکا ہے ۔
اس حکومت میں وہ کام ہو رہے ہیں جو پاکستان کی تاریخ میں پہلے نہیں ہوئے تھے۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے ہر وہ کام کرنے کی ٹھان لی ہے جس سے عوام کا بھلا ممکن ہوسکے ۔کیونکہ یہ کپتان کا نیا پاکستان کا وژن ہے۔