بحران ٹل گيا اور اس دفعہ جنرل قمر جاوید باجوہ پاکستان کی تاریخ کے سب سے زیادہ مضبوط ترین آرمی چیف بن گئے ہیں۔ عدالت میں جو کيس ہوا اس ميں سب سے زیادہ جس کو شاباش دی جائے تو جنرل قمر جاوید باجواہ خود مستحق ہيں اس کی سب سے بڑی ریزن يہ ہے کہ جو غدار بیٹھے تھے اصل میں کوئی ایک غدار بيٹھا ہوا تھا جو الطاف حسين کا بار بار بدلہ لے رہا تھا ۔
تين بار جب غلطی پر غلطی ہوئی ہر بار غلط نوٹيفکيشن جاری ہوا تو ظاہر سی بات ہے اس پر ناراضگی کا آرمی نے کا اظہار کیا کہ آپ يہ غلطیاں يہ نوٹیفکیشن کیسے ہو رہا ہے ؟
یہ کوئی معمولی بات نہیں کہ یہ تو پورا پنڈورہ باکس کھلے گا اور پتہ چلے گا کہ کون الطاف حسین کا بدلہ لے رہا تھا اور کون جان بوجھ کر یہ کھیل کر رہا تھا یہ تو آنے والے دنوں میں پتہ چلے گا ۔
ليکن جنرل جاويد باجوہ کی ٹيم کی ريک مينڈيشن يہ ہونگی کہ اس ميں يہ چيز شامل کريں وہ چیز شامل کريں اس کے بعد عدالت ميں جو سمری اور باقی چيزيں دی گئی اس ميں جو ريمارکس تھے ساری دنیا جانتی ہے کہ اس ريمارکس کے بعد عمران خان کی میٹنگ ہوتی ہے جنرل قمر جاوید باجوہ سے اور وہاں پر دوٹوک فیصلہ ہوتا ہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی توثیق کے ساتھ کھڑے رہیں گے چاہے جو مرضی ہو جائے۔
عدالت میں کافی سارے معاملات ہوئے اس ميں جنرل راحیل شريف کی ریٹائر منٹ کے ڈکومينٹس مانگے گئے ،پھر جنرل کیانی کے مانگے گئے۔
یہ تمام چیزیں ہوتی رہی اور اس کے بعد آپ کو کہا گيا کہ آپ کو مطمئن کرنا ہوگا کہ آنے والی تعناتی کيسے درست رہی ہے۔؟
اس کے بعد چیف جسٹس نے کہا کہ اگر آپ کہتے ہگں کہ آپ کو قانون سازی کرنی ہے تو اور دوران سماعت چيف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ قانون بنانے ميں کتنا وقت لگے گا؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہميں تين ماہ کا وقت چاہيے۔تو پھر عدالت نے يہ فيصلہ ديا کہ جب قانون سازی کے ليے تين ماہ چاہيے تو ہم تين ماہ کے ليے اس کی تو سيع کر ديتے ہيں ۔تو اس کا مطلب کے جب معاملہ آگے جائے گا تو چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ تب تک نہيں رہيں گے۔ اس کو بعد ميں آنے والی عدالت اور ججز ديکھيں گے۔اس طرح جنرل باجوہ مزید کام کرتے رہیں گے۔
اب یہ جو تمام صورت حال ہے یہ اتنی زیادہ عجیب و غریب ہے کہ عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کو کام جاری رکھنے کی مشروط اجازت دی ہے انہوں نے کہا ہے کہ تین سال کی مدت بھی آپ نکالے۔
يہ جو کل فيصلہ ہوا ہے يہ پوری طرح پاک فوج کے حق ميں ہوا ہے ليکن ايک بات ياد رہے کہ اس ميں فوج کی بدنامی ہوئی ہے اور فوج ان لوگوں کو چھوڑے گی نہيں جنہوں نے پس پردہ رہ کر پورا کھیل کیا ہے يہ کوئی اتنا آسان کھيل نہيں تھا عمران خان کو اندازہ ہی نہيں ہو پاتا کہ بدمعاشيں انکے پيچھے بيٹھ کے کيا کھيل کھيلتی ہيں۔ عدالت کے اندر آپ کے آرمی چيف کا رگڑا لگايا جائے يہ کوئی عام آرمی چيف نہيں ہے انڈیا کی ذرا اس وقت حالت دیکھيں صفِ ماتم بچھای ہوئی ہے۔ احمد نورانی جیو کے ساتھ نے جو گند اچھالا جو پاکستان کے خلاف کام کیا ان کو لگا کہ رات کو خبر آئے گی استعفی کی ليکن عمران خان اور آرمی چيف کی ملاقات کے بعد جب عمران خان نے علان کيا کہ ميں آرمی چيف کے ساتھ ہوں تو ان کو کچھ اندازہ ہو گیا کہ معاملہ کس طرف جا رہا ہے عمران خان باجوہ کی میٹنگ کے بعد ظاہر سی بات ہے یہ لوگ انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے ۔
انہوں نے یہ ٹویٹ کی کہ کے چیف جسٹس کو دھمکی دی جائے گی اور اس کے بعد ان کو پیغام دیا جائے گا کہ اگر کہ اگر آپ نے صبح سمری تسلیم نہ کی تو ہم ایمرجنسی لگا دیں گے اور ایمرجنسی بھی پرویزمشرف والی۔ ان میڈیا والوں نے جو کھیل کھیلا ہے وہ اتنا بھيانک تھا اور یاد رہے کہ اس بار جنرل باجوہ اتنے مضبوط آرمی چیف ہيں کہ شاید پاکستان کی تاریخ میں اتنا مضبوط آرمی چیف کبھی آیا ہوگا اب جو کام انہوں نے کرنے ہیں وہ بہت زیادہ سٹرانگ ہونگے سب سے پہلے آرمی چیف اور عمران خان کی ذمہ داری ہے کہ وہ میڈیا کے ان لوگوں کو پکڑیں جنہوں نے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کر دی ہے انہوں نے کتنے ٹرینڈ چلائے کہ ایکسٹینشن نہ منظور جیو کے صحافی ان لوگوں نے فوج کے خلاف اتنا گند اچھالا کہ اگر آپ پھر بھی ان کو چھوڑ دیتے ہیں تو یہ پاکستان سے غداری ہو گی لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ سب سے پہلے آپ میڈیا کا احتساب کریں عمران خان اگر نہیں کر سکتے تو رياست کرے کیونکہ اگر آج ریاست نے اگر آج ان غداروں کو چھوڑ دیا تو یاد رکھیے گا جس طرح پاکستان بلکہ مسلمانوں کی تاريخ ہے کہ جس طرح اندر کے غداروں نے ان کو نقصان پہنچایا عمران خان اور جنرل باجوہ کی ملاقات کے بعد الحمدللہ تمام معاملات یکسر بدل گئے ہیں اور جو بھی ہوا ہے یہ پاکستان کی بہت بڑی جیت ہے

1 COMMENT

Comments are closed.