پاکستان کو دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا۔ تفصیلات کے مطابق ماہرین معاشیات ڈاکٹر شاہد صدیقی نے دعوی کیا ہے کہ حکومت دوبارہ آئی ايم ايف کے پاس جائے گی ۔
ڈاکٹر شاہد صدیقی نے کہا ہے کہ اس سال پاکستان کا گروتھ ریٹ بھارت ، مالديپ، سری لنکا اور بھوٹان سے بھی کم رہے گا ۔دوسری جانب بھارت اور امریکہ پاکستان کو بلیک لسٹ کرنا چاہتے ہیں ۔
اگلے ماہ میں افراط زر 9 فیصد رہے گا ۔ سٹيٹ بینک عمران خان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف،ايف اے ٹی ایف اور استعماری قوتوں اور ہمارے معیشت کے منز کی سوچ ایک ہے ۔
ماہرین معاشیات نے مزید کہا کہ گندم کے بحران کی ذمہ دار تحریک انصاف کے دو رہنما ہی ہيں۔ نجی ٹی وی چینل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جہانگیر ترین اور ہمایوں اختر دونوں گندم سکینڈل میں ملوث ہیں۔
ملک میں گندم کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ 2005 میں بھی پاکستان میں گندم کا بحران آیا تھا ۔جس کے ذمہ دار بھی رہنما تحریک انصاف جانگیرترین اور ہمایوں اختر تھے۔
ڈاکٹر شاہد حسن صدیقی نے کہا کہ چوروں اور قومی دولت لوٹنے والوں کو جتنی مرا عت تحریک انصاف کی حکومت نے دی ہيں ۔اس سے پہلے کسی حکومت نے نہيں دی۔
بجی ٹی وی چینل پر تبصرہ کرتے ہوئے دیگر ماہر معاشیات ڈاکٹر استفاق حسن نے کہا کہ کرنٹ خسارے میں بہت زیادہ کمی ہوئی ہے اور ايکسچينج پر دباؤ نہیں رہا ۔لیکن یہ سب کچھ کرنے کے لئے جو پالیسی اپنائی گئی ہیں اس سے دس مزید بیماریاں پیدا ہو گئی ہے جسے اب ہمیں دوبارہ ایم ایف کے پاس جانا پڑے گا
يہ خبر بہت ہی بری ہے کہ پھر پاکستان کو آئی ايم ايف کے پاس جانا ہو گا۔ قرصے کم ہونے کی بجائے مزيد بڑھ رہے ہيں۔