پاکستان کو اسرائیل کو تسلیم کر لینا چاہیے ، پاکستان پر دباؤ بڑھ گی

0
1579

اسرائیل پاکستان سے تعلقات کی بھیک مانگنے لگا اس نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے آج تک اسرائیل کو تسلیم نہ کر کے کیا حاصل کیا اگر پاکستان اپنے لوگوں کی ترقی چاہتا ہے تو اسے اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے ہونگے اخبار نے آرٹیکل میں لکھا کہ فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے بائیکاٹ نے پاکستان کو آخر کیا فائدہ دیا ہے پاکستان کو اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مشترکہ مفادات کی بنیاد پر سفارتی تعلقات استوار کیے جا سکیں آرٹیکل میں لکھا گیا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ غیر مستحکم رہی ہے کبھی فوجی مداخلت اور کبھی پاکستان کی قومی سیاست کی چھاپ اس پر واضح نظر آتی رہیں پاکستان کے پالیسی ساز پاکستان کے مفادات پر منحصر پالیسی ترتیب دینے کی بجائے معاشرتی اور مذہبی دباو طاقتور گروپ کا دباؤ اور مذہبی گروہوں کی بلیک میلنگ کا شکار ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ پاکستان کشمیر ایشو کو دنیا بھر کی نظروں میں مرکزی حیثیت دلوانے میں ناکام رہا ہے اور فلسطین کوبھی پاکستان کی کمزور حمایت کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوا آرٹیکل میں لکھا گیا کہ انیس سو اسی کی دہائی میں غلط فیصلوں سے پاکستان میں دہشت گردی مذہبی انتہا پسندی فرقہ واریت اور کلاشنکوف کلچر کو فروغ ملا ہے جوکہ آج تک جاری ہے جبکہ اس کی نسبت ہمسایہ ملک بھارت نے سوویت یونین کی تقسیم کے فوراً بعد اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات اپنا کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اسی دوران کشمیر میں فسادات شروع ہو گئے جس کے باعث پاکستان کی توجہ اس جانب مبذول ہوگئی اور پاکستان کی خارجہ پالیسی آج تک استحکام حاصل نہیں کرسکی آرٹیکل میں مزید کہا گیا کہ آج بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو 25 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے جبکہ پاکستان نے فلسطین کی حمایت اور کشمیر کے حق خودارادیت کیلئے آواز بلند کر کے کچھ حاصل نہیں کیا.