سعودیوں کے نام پر کاروبار کرنے والے پاکستانی ہوشیار ہوجائیں نئے قانون کے تحت غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ دولت ضبط  ہوجائے گی سعودی عرب میں تارکین وطن کی مقامی شہری کے نام پر اپنے کاروبار چلا رہے ہیں جو کہ قانون کی رو سے سراسر ناجائز ہے اور اسے غیر قانونی کاروبار میں ملوث تارکین اور ان کے سہولت کاروں کو سزا اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے پھر  تجارتی پردہ پوشی کے جرم میں کئی افراد کو سزائیں سنائی جا رہی ہیں سعودی عرب میں سعودیوں کے نام سے غیر ملکیوں کے کاروبار کی پردہ پوشی کا نیا قانون جاری کر دیا گیا  جس میں وضاحت کی گئی ہے کہ عدالت سے تجارت کی پردہ پوشی کا حتمی فیصلہ جاری ہو جانے پر غیر قانونی طریقے سے حاصل کردہ دولتضبط  کر لی جائے گی سعودی خبر رساں ادارے  کے مطابق اگر کوئی سعودی شہری اب اپنے نام سے کسی غیر ملکی کو کاروبار کرا رہا ہوں اور اس کاروبار سے سعودی یا غیر ملکی کو آمدنی ہو رہی ہو اگر غیر قانونی طریقے سے کمائی گئی اس دولت کو قانونی موشگافیوں کی وجہ سے ضبط کرنے کی کوئی سبیل ناں ہو تو ایسی صورت میں یہ معاملہ عدالت میں لے جایا جائے گا عدالت کی جانب سے تجارت کی پردہ پوشی کا حتمی فیصلہ ہو جانے پر غیر قانونی دولت ضبط  کر دی جائے گی کچھ عرصہ قبل ملک میں ایک مقامی شخص نے اپنے نام سے ذاتی کاروبار چلانے والے پاکستان کو گرفتار کرلیا اور اس پر بھاری جرمانہ عائد کرنے کے بعد اسے رپورٹ کیا جا چکا ہے یہ پاکستانی شخصیت ہیں جن کے شہر بریدہ میں مقیم تھا اور وہاں اس نے ایک سعودی شہری کے نام سے اپنا کھجوروں کا کاروبار شروع کر رکھا تھا جس کی وجہ سے مقامی شخص نے شکایت کر دیں وزارت تجارت اور سرمایہ کاری نے پہلے اس معاملے کی چھان بین کی اور تسلی ہو جانے کے بعد پاکستانی کو تجارتی جعل  سازی پر پر گرفتار کر لیا گیا عدالت میں پاکستانی اور سعودی کے خلاف جعلی  تجارتی کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا جس کے بعد دونوں افراد پر بھاری جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ پاکستانی کو جرمانے کے علاوہ ڈی پورٹ کیے جانے کا حکم بھی سنایا گیا ہے اور اس کا نام بھی بلاک لسٹ ہو گیا ہے جبکہ اس معاملے کی اطلاع دینے والے شخص کو جرمانوں کے 25 فیصد رقم بھی بطور انعام دی گئی ہے