کرونا وائرس سے بچاؤ کے لئے پانی میں کلورین کی مقدار کو دگنا کرنے کا فیصلہ۔۔۔
کلورين انسانی صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ۔ایک لیٹر پانی میں کلورین کی مقدار آدھا ملی گرام سے ایک ملی گرام کردی گئی ہے. ،ايم ڈی واسا زاہد عزيز۔
چین میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد واسا کا اہم فیصلہ سامنے آ گیا ۔تفصیلات کے مطابق بتایا گیا ہے کہ واٹر اینڈ سینیٹیشن ایجنسی واسا نے پانی کی مقدار میں کلورین کی مقدار کو دگنا کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ایم ڈی واسا زاہد عزيز کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ٹیوب ويل میں کلورین کی مقدار بڑھا دی گئی ہے۔ کلورین کی مقدار بڑھانے سے پانی میں موجود جراثیم کا خاتمہ ہوسکے گا ۔
بتایا گیا ہے کہ اس سے قبل ایک لیٹر پانی کےلیےآدھے ملی گرام کلورین کے استعمال کی جا رہی تھی اب آدھا ملی گرام سے بڑھا کر اس مقدار کو ایک ملی گرام کردیاگیاہے۔
ٹی ایم او کی زیرنگرانی چیف واسا کو پانی کی ٹیسٹنگ اور کلورین کا سٹاک رکھنے کی ہدایات بھی جاری کردی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پانی میں کلورین کی مقدار میں اضافہ انسانی صحت کے لیے نقصان دے نہیں۔
واضح رہے کہ چین میں 200 سے زیادہ افراد کرونا وائرس کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ نو ہزار سے زائد افراد ان کا شکار ہوکر ہسپتالوں میں داخل ہوچکے ہیں ۔
چین حکومت کی جانب سے اس وائرس سے بچنے اور لوگوں کے علاج کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن ان کی اقدامات سے کئی گنا زيادہ رفتار سے يہ وائرس پھيل رہا ہے ۔چين ميں لوگوں کی زندگی عذاب بن چکی ہے۔کيونکہ نہ وہ اب گھروں سے باہر نکل سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا علاج ا بھی ممکن ہے ۔
چین کے مقامی لوگوں کے ساتھ وہ دنیا بھر سے آئے طالب علم بھی قید ہو کر رہ چکے ہیں ۔جو کہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے موجود تھے۔
یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان نے طالب علموں کو واپس نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے ۔تا ہم چین میں ہلاکتوں کے بعد پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے واسا نے بھی ايک فيصلہ ليتے ہوئے پانی میں کلورین کی مقدار کو دگنا کر دیا ہے۔