تھر ميں فصل کھانے کے لئے آنے والی ٹڈياں اب خودخوراک بن گئی ٹڈياں کھيت کھانے چلیں تھیں تھر والوں نے انہی کو کھانا شروع کر دیا
ٹڈيوںکا کڑاہی گوشت جہاں آج کل تھر والوں کی مرغوب بناہوا ہے وہیں اس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوگیا ہے اس خبر کے منظر عام آنے کے بعد لوگ يہ سوال کر رہے ہيں کہ کيا ٹڈياں حلال ہيں يا حرام ہيں۔؟؟؟
ایک صارف نے لکھا کہ ٹڈی گرم ہونے کے ساتھ ساتھ بہت زیادہ فائدہ مند بھی ہے اس نے یہ بھی بتایا کہ سانس کے مرض میں مبتلا لوگ اس کا استعمال کرسکتے ہیں نورین نامی ایک صارف نے بتایا کہ ٹڈياں کھانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں اور دنيا کے بیشتر ممالک میں اس کا استعمال عام کیا جاتا ہے ۔
ايک اور صارف نے بتايا کہ يہ ايک حلال کيڑا ہے۔سہیل منصور نامی ايک صارف نے بتايا کہ 80 کی دہائی میں ان کے علاقے کے لوگ ٹڈياں بڑے شوق سے کھاتے تھے ایک اور صارف نے بتایا کہ سعودی عرب میں اس کا استعمال عام ہے اسے لوگ بڑے شوق سے کھاتے ہیں اقوام متحدہ کی جانب سے کھائے جانے والے کيڑوں کی لسٹ میں ٹڈی کا نام بھی شامل ہے
واضح رہے کہ چند ماہ قبل تھرپارکر سمیت دیگر علاقوں میں ٹڈيوں نے حملہ کردیا تھا جس سے کسان اپنی فصلوں کی حفاظت کے لیے پریشان تھے کہ ٹڈيوں کے لیے اسپرے مہم کے لئے خصوصی فنڈ جاری کیا گیا تھا اس کے باوجود بھی کوئی خاص حل نہ نکلنے پر یہاں کے رہائشیوں نے خود ہی اس کا حل نکالا اور وٹامن سے بھرپور ٹڈی کو خود ہی کھانا شروع کر دیا۔
چونکہ اب تھر والے خود ان ٹڈیوں کو کھانا شروع ہو گئے ہیں جو ان کے فصلوں کو نقصان دیتی تھیں تو اب اس قدم سے یہی کہا جا رہا ہے کے بہت حد تک ان ٹڈیوں پر قابو پا لیا جائے گا جو فصلوں کو نقصان دے دیتی تھیں۔ اس طرح ایک تیر سے دو شکار ہو جائیں گے۔