جیسی کرنی ، ویسی بھرنی۔ مولانا فضل الرحمان کے لئے نئی مشکلات کھڑی ہو گئیں ۔ملک قوت دشمنوں کا آلا کار بن کے ریاست کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے والوں کو اب جواب دینا ہوگا۔ حکومت ڈٹ گئی۔اب کوئی جتنا بھی طاقت ور کیوں نہ ہو، ریاست کے خلاف زبان استعمال کرے گا، تو اس کا خمازہ بھگتنا پڑے گا۔ اب بڑے مگرمچھ بھی قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکیں گے۔ 
وزیراعظم عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کی کور کمیٹی کے اجلاس کی سربراہی کی اور حکمرانوں کے خلاف توہین آمیز زبان کے کے سوال پر جمیعت امت اسلام ف کے رہنمائوں کے خلاف سخت کاروائی کا فیصلہ کر لیا۔
پی ٹی آئی کی کور کمیٹی کے اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی بگڑتی صحت اور بیرون ملک علاج کے حوالے سے ضروری روانگی کا بھی جائزہ بھی لیا گیا۔
پی ٹی آ ئی اسلام آباد نے دھرنے کے دوران جے یو آئی ف کی تقریروں پر برہم تھی۔ پی ٹی آئی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہمیں ایسی تحریروں کو معمول کے انداز میں نہیں لینا چاہیے ۔
جے یو آئی ف کے رہنما بھی اسی چیز کا سامنا کریں گے، جس کا دیگر سیاست دانوں اور مصیبت پیدا کرنے والوں نے کیا۔ کور کمیٹی نے جے یو آئی ف کے سربراہ کی جانب سے استعمال کی بانے والی نا قابل قبول زبان کی مذمت کی ہے۔ کور کمیٹی اجلاس میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ مولانا نے آزادی مارچ کے دوران مذہب کارڈ کا استعمال کیا ۔اور فضل الرحمن نے دھرنے سے کشمیر کاز کو شدید نقصان پہنچایا۔ 
دھرنے کے دوران اپوزیشن رہنمائوں کی جانب سے کی گئی تقریر وں پر قانون کی خلاف ورزی پتا لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فضل الرحمن کے احتجاجی کنٹینر سے مفتی حافظ حمیداللہ ، مولانا کفایت اللہ، منظور مینگل، محمود خان اچکزئی اور دیگر نے ریاست کے خلاف بغاوت کے مترادف کلمات ادا کیے ہیں ،جس کے تحت ان کے خلاف بغاوت کے مقدمات درج کرنا مشکل نہیں۔ریاستی اداروں کے خلاف سخت زبان استعمال کرنے کے علاوہ دھرنے میں شریک رہنما ئوں نے مذہب اور قوم پرستی کا کارڈ کھیلنے کی بھی کوشش کی ہے۔
محمود خان اچکزئی نے بلوچستان اور خیبر پختونخواہ میں اپنے ہم خیال لوگوں سے رابطے کر کے جے یو آئی ف کا استعمال کرتے ہوئے پشتون کارڈ کھیلنے کی کوشش کی ۔لیکن ان کو اس وقت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، جب مولانا فضل الرحمان نے پشاور موڑ سے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تو اچکزئی کا ٹریپ فیل ہو گیا۔
سپیکر پنجاب اسمبلی پرویز الہی نے مولانا کے دھرنے کے ختم ہونے سے متعلق اہم انکشافات کر ریئے ہیں۔مولانا شور مچا رہے ہیں کہ انہوں نے یہ دھرنا کسی کے کہنے پر ختم نہیں کیا مگر مسلم لیگ ‘ک’ کے مرکزی رہنما چودھری الہی نے انکشاف کیا ہے۔