لے ليے سکھ کے سانس جتنے لينے تھے نبھا لی دوستی جتنی نبھانی تھی اب بھارت تیار ہوجائے دن اب پھر گئے ہيں دشمن اب تنہا رہ جائے گا اب کوئی بھی ملک بھارت کی طرف نہیں دیکھے گا جتنے مرضی ڈھول بجا لے اب بھارت پورے خطے میں تنہا رہ جائے گا کیونکہ وزیراعظم عمران خان کی بدولت پاکستان مسلمہ میں مرکزی حیثیت حاصل ہو چکی ہے جو بھارت کو بالکل بھی ہضم نہیں ہورہا اور اب بھارت پوری دنیا کو کاروباری لالچ دے رہا ہے بھارت ایک ارب سے زائد لوگوں کی مارکيٹ ہے اگر وہ چین روس اور پاکستان جیسی بڑی مارکيٹ اگر ایک ساتھ ہو جاتی ہیں تو یہ بھارت کے ساتھ امریکہ کی بھی بڑی شکست ہے جس کو بچانے کے لیے امریکہ کسی حدتک بھی جا سکتا ہے چاہے اس کی قیمت بھارت کے ساتھ تعلقات خراب کرنے کی صورت میں دینا پڑے اور جو ہوتا ہوا نظر بھی آرہا ہے امریکا بھی پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے۔

طالبان سے مذاکرات میں کردار ادا کرنے کے بعد گزشتہ دنوں امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے درمیان ہونے والی ملاقات میں امریکی صدر نے پاکستانی وزیراعظم کو اس پيشکش کو کھلے دل سے قبول کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کردار ادا کریں لیکن اس سے پہلے بھی وزیراعظم عمران خان کو کردار ادا کرنے کی درخواست کردی اس سے پہلے ايران کی سنجیدگی دیکھنے کے لئے وزیراعظم عمران خان کو سعودیہ اور ایران کے درمیان مفاہمت میں کردار ادا کرنے کی درخواست کی پھر اگر ايران کو امريکہ کی نیت پر شک نہیں ہوتا سعودی عرب اور ایران کے تعلقات حقیقی بہتری کی طرف چلتے ہیں تو وزیراعظم پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان بھی دوستی کے لیے اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں وزیراعظم سے امريکہ کے اعلی حکام نے نيو يارک ميں بات کی ۔ اس کے فوری بعد وہ سعودیہ ائرلائن کی پروازسے جدہ پہنچے جہاں ان کی انتہائی اہم شخصیات سے ملاقات ہوئی

صرف سعودی عرب کی حکومت کی طرف سے وزیراعظم عمران خان کو باضابطہ درخواست کی گئی کہ وہ فوری طور پرایران کے سعودی عرب کے تعلقات ساتھ قائم کرنے ميں اہم کردار ادا کریں اورایران کے ساتھ تعلقات کی بہتری میں سعودی عرب کی مدد کریں امريکہ اور سعودی عرب کا پاکستان پر اعتماد ثابت کرتا ہے کہ پاکستان آئندہ چند روز میں ایک نمایاں حیثیت حاصل کرنے والا ہے دوسری بڑی طاقت چين پہلے ہی پاکستان کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے اور اب امريکہ بھی ايسا ہی کچھ چاہتا ۔
امریکہ مشرق وسطیٰ سے کم ازکم اگلے صدارتی انتخاب تک اپنا ناتا اس طرح توڑنا چاہتا ہے جسے امریکی عوام کو یہ تاثر دیا جائے کہ امريکی صدر شام مشرقِ وسطیٰ کے متعلق امریکی پالیسی کو بدلنا چاہتے ہیں اور امریکی افواج کو مشرق وسطیٰ کے جنگ کے میدان سے نکال لانا چاہتے ہیں
اگر امريکہ اس پاليسی پر عمل کرتا ہے تو انڈيا دنيا ميں تنہا رہ جائے گا