جہاں حکومت کی غلط پالیسیوں پر ہم تنقید کرتے ہیں۔ وہاں ہمارا یہ فرض ہے کہ اچھی خبریں بھی آپ تک پہنچائیں ۔ تا کہ ذرا مایوسی کی بجائے اچھی خبر دی جائیں ورنہ لوگ تو ڈپریشن کا شکار ہو رہے ہیں۔
ایک بہت اچھی خبر ہے اور وہ اچھی خبر اگر معیشت کے حوالے سے ہو تو ویسے ہی چودہ تبق روشن ہو جاتے ہیں ۔پاکستان میں معیشت کے بارے خواب واقعی حقیقت میں تبدیل ہوتے نظر آرہے ہیں پاکستانی معیشت کی ساخت بہتر ہورہی ہے۔ پاکستان معاشی استحکام کی طرف گامزن ہے۔۔ سرمایہ کاری میں اضافہ ہواہے۔ موجود پاکستانی معیشت اب آگے بڑھ رہی ہے موجودہ حکومت کی پالیسی کی وجہ پاکستان کو عالمی بینک کاروبار میں آسان ہوئی۔اور عالمی درجہ بندی میں پاکستان 128 درجے سے 108 نمبر پر آگیا ہے۔ اور اس سے قبل پاکستان میں درجہ نبدی میں 190 ممالک کی فہرست میں ایک سو چھتیس نمبر پر تھا ۔پاکستان کا کاروباری ماحول میں آسانی اور اصطلاحات لانے والے دنیا کے 10 بہترین ملکوں میں پاکستان کا نمبر شامل کردیا گیا ۔اور اس انڈکس میں بہترین ممالک میں پاکستان، سعودی عریبیہ، اردن،بحرین ، تاجکستان ،کویت ،چائنا، بھارت اور نائجیریا شامل ہیں۔ پاکستان میں گزشتہ ایک برس کے دوران چھ شعبوں میں نمایاں اصلاحات متعارف کروائیں۔جن کے باعث کاروبار کے آغاز کی درجہ بندی میں 58 تعمیراتی کام اور 54 جائداد کی رجسٹریشن ، 10 بجلی کی فراہمی 44 ارب تجارت ،اور 31 عوام کے ٹیکس نیٹ شامل کرنے میں 12 درجے بہتری آئی ہے ۔
وزیراعظم عمران خان عالمی بنک کی اس رپورٹ کے بارے میں ٹویٹ میں کہا تھا کہ یہ پاکستان کی تاریخ کی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ اور ان کی جماعت کے منشور کا ایک اور وعدہ پورا ہوگیا ہے ۔
مختلف اداروں کی رجسٹریشن فیس بھی کم کی ہے۔ اور کاروبار کے آغاز میں 130 سے لے کر اب 72 درجے بہتری پر آگیاہے۔ پاکستان نے آن لائن ادائیگی کے طریقہ کار متعارف کرانے اور ٹیکسوں کی ادائیگی آسان بنائی ہے۔ اور اس میں درجہ بندی 173 سے 161 درجے کی بہتری پر آگئی ہے۔ نئے کاروبار کے لئے بجلی کا حصول آسان بنانے کے لئے جو بجلی کا کنکشن لگانے کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اور رپورٹ کے مطابق بجلی کنکشن کے حصول میں پاکستان 167 سے 123 کے لیول پر آگیا ہے۔ اور پچھلی حکومت کی جانب سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بہت زیادہ چھوڑنے کے باوجود، خسارہ اس حد تک بڑھ گیا کہ اس کی وجہ سے مہنگائی ہوئی۔ اور اس کی وجہ سے پاکستان کو ایک ایک مہینے میں دو ارب ڈالر کا خسارہ ہوتا ہے ۔جس میں حکومت نے ساڑھے چار سال بعد اب قابو پالیا ہے۔اور اب کھاتے مثبت ہونا شروع ہونا ہو گئے ہیں۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں کمی کے باعث آئندہ مہینوں میں آنے والے دن میں اب مہنگائی میں اب کمی ہوگی ۔حکومت کے مطابق بیرونی قرضوں میں واپسی کے تمام ریکارڈز توڑ دیں گے ۔اور ریکوڈک کیس میں پاکستان کو ایک بہت بڑی خوشخبری ملنے والی ہے۔ تین مہینے میں اسٹاک ایکسچینج 6505 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ۔
ایف بی آر میں اصلاحات کاعمل جاری ہے۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں خسارے میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 64 فیصد کمی آئی ہے۔ جب کہ مالی خسارے میں پہلی سہ ماہی کے دوران 50 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پرائمری بجٹ بیلنس کے زمن میں رواں مالی سال کے پہلے تین مہینوں کے دوران 285 ارب روپے کی اضافی آمدنی ہو ئی۔ اس حقیقت کے باوجود کے ماضی میں لئے گئے قرضوں کی قسطیں اور سود بھی حکومت کو ادا کرنی پڑ رہی ہیں۔ حکومت نے گزشتہ سال ساڑھے 10 ارب ڈالر کا قرضہ واپس کیا۔ اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔گزشتہ سال کے مقابلے میں رواں سال فائلرز کی تعداد میں 55 فیصد اضافہ ہوا ۔اندرونی محصولات میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
سابقہ دور حکومت میں گردشی قرضہ ساڑھے چار سو ارب روپے سے 1200 ارب روپے تک پہنچ چکا تھا۔ اور موجودہ حکومت نے اس میں بھی کافی کمی کی ہے۔ اور کہا جا رہا ہے کے دسمبر کے آخر تک گردشی قرضے کو صفر تک لایا جائے گا۔
حکومت کی ایکسپورٹ میں 35 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اور یہ حکومت کی 15 ماہ کی مثبت پالیسیز کی وجہ سے ہوا ہے ۔اور یہ گروتھ چار سال کے مقابلے میں ہے۔ حکومت کی طرف سے یہی مدد ملتی رہی تو آئندہ چار یا پانچ سال میں 45 ارب ڈالر تک ایکسپورٹس لے جائیں گے ۔حکومت برآمدات میں اضافے کے لیے کام کر رہی ہے ۔ مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں چاول کی برآمدات میں 52 فیصد ریکارڈ اضافہ کیا گیا ہے۔ 
موجودہ حکومت معیشت کے بحران سے باہر آ رہی ہے۔ اب معیشت کو استحکام دینے کے بعد اگلے مرحلے میں کیا کچھ اقدامات کیے جائیں گے۔جس میں مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ لیکن جنوری کے بعد پاکستان میں بتدریج بہتری آنا شروع ہوجائے گی بہت جلدی تو نہیں ہوگی ، سال تو لگے گا۔ لیکن آپ کو بہتری محسوس ہونا شروع ہو جائے گی۔