شطرج کی ایجاد کے بعد اسکے موجد کا سر کیوں کاٹ دیا گیا ؟

0
1921

شطرنج کا شمار دنیا کی مشکل اور قدیم ترین کھیلوں میں ہوتا ہے یہ ا یسا کھیل ہے جس کو بادشاہوں کا کھیل کہا جاتا ہے اس کھیل کا اصل نام چترنگ تھا جو بعد میں تبدیل ہو کر شطرنگ بن گیا یہ کھیل راجہ مہاراجہ شہزادے اور بادشاہی کھیلا کرتے تھے آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ اس کھیل کا آغاز کہاں سے ہوا اور اس کا موجد کون ہے اور کیسے اس نے اس کھیل کی بنیاد پر ملک بھر سے غلہ کا صفایا کیا
شطرنج کا کھیل چھٹی صدی عیسوی کو برصغیر میں ایجاد ہوا وہاں تین ہزار سال قبل بتا خاندان کی حکومت قائم تھی وہاں کا بادشاہ کھیلنے میں بہت دلچسپی رکھتا تھا ایک دن اس نے اپنی ریاست میں اعلان کروایا کہ وہ پرانے کھیلوں سے تنگ آ چکا ہے اب جو کوئی بھی نیا کھیل متعارف کروائے گا اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا بہت سے لوگوں نے اپنے اپنے کھیل متعارف کروائے لیکن بادشاہ مطمئن نہ ہو سکا آخر ساتھ والی ریاست سے ایک ریاضی دان جس کا نام سیسہ تھا شطرنج کا کھیل لے کر بادشاہ کے پاس حاضر ہوا اور یہ کھیل دیکھ کر بہت خوش ہوا اور خوشی کے عالم میں سیسہ سے پوچھا مانگو کیا مانگتے ہو سیسہ نے چند لمحے سوچا اور پھر بادشاہ سے کہا حضور چاول کے چنددا نے پوچھا کیا مطلب سیسہ بولا آپ سطرنج کے 64 خانے چاولوں سے بھردیں لیکن میرے فارمولے کے مطابق بادشاہ نے پوچھا یہ فارمولا کیا ہے سیسہ بولا آپ پہلے دن پہلے خانے میں چاول کا ایک دانہ دوسرے دن دوسرے خانے میں پہلے کھانے کے مقابلے میں دگنے چاول یعنی چاول کے دو دانے رکھ دیجئے تیسرے دن تیسرے خانے میں دوسرے خانے کے مقابلے میں پھر دو گے چاول یعنی چار دانے رکھ دے اور اسی طرح آپ ہر خانے میں چاولوں کی مقدار کو ڈبل کرتے جائیں یہاں تک کہ چونسٹھ خانے پورے ہو جائیں بادشاہ نے سیسہ کے بیوقوفانہ مطالبے پر قہقہہ لگایا اور یہ شرط قبول کر لی اور پھر ناظرین یہ اسے دنیا کی وہ گیم شروع ہوئی جس سے آج میکروسوفٹ جیسی کمپنیوں نے جنم لیا ساڑھے تین ہزار سال گزر جانے کے بعد بھی شطرنج کے 64 خانوں کو چاولوں سے بھر نا ممکن ہے بادشاہ نے پہلے دن کے پہلے خانے میں چاول کا ایک دانہ رکھا اور اسے اٹھا کر سیسہ ہوتے ہیں چلا گیا دوسرے دن دوسرے خانے میں نے 2000 میں رکھ دیے گئے تیسرے دن تیسرے خانے میں چاولوں کی تعداد چار ہو گئی چوتھے روز آٹھ سال ہو گئے پانچویں دن ان کی تعداد 16 چھٹے دن کی تعداد 32 ہوگئی ساتویں دنیا 64 ہو گئے آٹھ دن یعنی شٹرنگ کے بورڈ کی پہلی روکھے آخری خانے میں 128 نویں دن کی تعداد 256 ہو گئی دسویں دن 512 ہو گئے گیارہ دن ان کی تعداد ایک ہزار چوبیس سو گئی بارہ دن یہ 2048 تعداد 4096 ہوگی چودھویں دن آٹھ ہزار ایک سو بیانوے ہوگئے پندرھویں دن 16339 سولویں دن یہ 2708 ہوگئے اور یہاں پہنچ کر شطرنج کی دو قطار مکمل ہوگئے اور یہاں پہنچ کر بادشاہ کو تھوڑا تھوڑا سا اندازہ لگا کے وہ کس مشکل میں پھنس چکا ہے وہ خود اور اس کے سارے وزیر مشیر سارا دن بیٹھ کر چاول گنتے رہتے شطرنج کی تیسری کتاب کے آخری قطرے تک پہنچ کر چاولوں کی تعداد 80 لاکھ تک پہنچ گئی اور بادشاہ کو چاولوں کو میدان تک لانے سیسہ کو یہ چاول اٹھانے کے لئے درجنوں لوگوں کی ضرورت پڑ گئی قصہ مختصر جب ترین کی چوتھی رویہ نہیں دیتی سوانح شروع ہوا تو پورے ملک سے چاول ختم ہو گا ماشاء حیران رہ گیا اس نے اسی وقت ریاضی دان بلائے اور ان سے پوچھا کہ صدر نے 64 کتنے چاول درکار ہوں گے اور ان کے لیے کتنے دن چاہیے بادشاہ کے ریاضیدان کئی دنوں تک بیٹھے رہے لیکن وہ وقت اور چاولوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگا نہ لیں یا انداز ساڑھے تین سال بعد ڈھل گئی جس نے لگایا بل گیٹس کا خیال ہے کہ اگر ہم ایک کے ساتھ انیس زیرو لگائیں تو شرط رنگ کے چونسٹھ سالوں میں کتنے چاول آئیں گے بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اگر ہم پوری میں ایک ارب چاول بھری تو ہمیں چاول پورے کرنے کیلئے 18 ارب وریاں درکار پر کھانے کے لیے ڈیڑھ ارب ساجن آپ بھی کیلکولیشن کرکے دیکھ لیں آپ حیران رہ جائیں گے مگر یہ یاد رکھیں کہ حساب عام کیلکولیٹر سے نہیں لگایا جاسکے گا اس کو کمپیوٹر کے ذریعے ہی کیلکولیٹ کیا جاسکتا ہے اور آنے والے اور کتا بادشاہ کو اس خوفناک مسئلے میں پھنسانے والے سیسہ کو باآسانی شکست رنگ کی چوتھی روم میں پہنچ کر گرفتار کروا دیا کیونکہ بادشاہ کو ستر کے ہاتھ میں پہنچ کر چاول پورے کرنے کے لیے ساڑھے پانچ دن لگ گئے تھے گوگل انسانوں کی طرف بڑھا تو ملک سے چاول ختم ہوگئے جس کے باعث چلا اٹھا انتہائی غصے میں شطرنج بنانے والے کا سر قلم کروا دیا اور یوں شراب کو بنانے والا تو مارا گیا لیکن شطرنج کی سردی آج بھی قائم ہے 70 بھارت سے ایران پہنچی وہاں سے بغداد بغداد سے سپین اور اسپین سے یورپ چلی گئی قرآن پوری دنیا میں یہ کھیل کھیلا جاتا ہے کہا جاتا ہے کہ شیطان سیاست جیسی گیم ہے جس میں پیارے سے لے کر بادشاہ تک سارے کردار موجود ہوتے ہیں