سعودی عرب نے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا

0
1367

“عبدللہ بن سلیمان تمہیں جو چاہئے میں دینے کو تیار ہوںلکن اگر میرا برسوں سے دیکھا ہوا خواب پورا ہوتے رہ گیا تو…” امریکا نے سعودی عرب کے نام ناقابل یقین پیغام بھجوادیا متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کی بحالی کے لیے معاہدہ ہو گیا ہے تاہم امریکہ نے سعودی عرب پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات بحال کرے گی اور ملکی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکی صدر کے داماد اور مشیر ڈاکٹر نے بریفنگ کے دوران کہا کہ متحدہ عرب امارات کی طرح سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کریں کیونکہ یہ اس کے مفاد میں ہوگا صدر ٹرمپ کے مشیر نے کہا کہ سعودی عرب کے اس اقدام سے ان کا مشترکہ دشمن ایران کمزور ہو گا لہٰذا یہ تو دفاع کے لئے بہتر ہوگا جبکہ اس سے فلسطینی عوام کو بھی مدد ملے گی جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی اور اقتصادی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اسرائیل کے ساتھ تعلقات مشرق وسطیٰ کے ممالک میں مفاد میں ہیں اور کئی جیسے ممالک کے سلسلے میں میں بڑا بریک تھرو کیا چاہتے ہیں اور انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل متحدہ عرب امارات کی طرح تعلقات قائم کرنا اور ان کے لیے مشکلات پیدا کرکے اسے تقسیم کرے گا کیوں کہ سعودی عرب اور اسرائیل کا مشترکہ دشمن ایران ہے جس پر دہشت گرد گروہوں کی مدد کا الزام ہے امریکی صدر کے مشیر کا کہنا تھا کہ اگر آپ ان لوگوں کا چار سالہ جو سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان امن معاہدہ نہیں چاہتے تو مخالفین کی بڑی تعداد کا تعلق ایران سے ہے لہٰذا اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان یہ بہتر ہے واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان باہمی تعلقات قائم کرنے کے لیے امن و آتشی پایا ہے جس کے تحت اسرائیل میں قید فلسطینی علاقہ سنگ نہیں کرے گا دو طرفہ تعلقات کے لیے دونوں ممالک مل کر روڈ میپ بنائیں گے ماہرین کے مطابق امریکہ اور متحدہ عرب امارات اسرائیل سے دیگر مسلم ممالک سے بھی تعلقات قائم کرنے کے لیے مل کر کام کریں گے اسرائیل سے امن قائم کرنے والے ممالک کے مسلمان مقبوضہ بیت المقدس آکر مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھ سکیں گے سعودی عرب کی جانب سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے درمیان معاہدے پر اب تک کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے. البتہ سعودی عرب نے اسرائیل سے کسی قسم کا تعلق کرنے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک فلسطین کو امن نہیں میسر ہوتا تب تک اس بارے میں نہیں سوچا جا سکتا.