داڑھی صرف مردوں کو کیوں آتی ہے ؟ عورتوں کو داڑھی کیوں نہیں آتی؟

0
1457

داڑھی عام طور پر مسلمانوں اور انتہائی مذہبی گھرانے کے لوگوں کی علامت سمجھا جاتا ہے. اور مردوں کا یہ زیور انکے صحت پر کافی مثبت اثرات مرتب کرتا ہے. ماہرین کا ماننا ہے کہ داڑھی انسان کو کافی سارے  امراض اور صحت کے مسائل سے بچاتی ہے. یہی وجہ ہے کہ نا صرف مسلم ممالک بلکہ  غیر مسلم ممالک کے لوگ بھی داڑھی رکھنا پسند کرتے ہیں، اس سے انکی شخصیت میں نکھار اور رعب پیدا ہوتا ہے. کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ داڑھی صرف مردوں کو ہی کیوں آتی ہے؟ اور اسکے کیا فوائد ہیں؟

طبی تحقیق سے کافی سارے حیرت انگیز حقائق سامنے آئے ہیں جسمیں سے کچھ ہم نے اس آرٹیکل میں لکھے ہیں. شیو کے دوران جلد پر کٹ آ نے سے ایک بیکٹیریا پیدا ہوتا ہے. جو ایک جلدی بیماری پیدا کرتی ہے . داڑھی رکھنے سے یہ بیماری قریب نہیں آتے.  دوسرا فائدہ یہ ہے کہ داڑھی اور مونچھوں کے بال گرد غبار اور  پولن کے ذرات کو ناک اور منہ میں جانے سے روکتے ہیں. یوں الرجی سے تحفظ مل جاتا ہے. تیسرا فایدہ یہ ہے کہ داڑھی کے بال جلد کو الٹرا وائلٹ شعاؤں سے بچاتا ہے.   اور جلد کے کینسر سے تحفظ دیتا ہے. اس کے علاوہ جھریوں کے مسلوں سے بھی بچاتا ہے. اسکے علاوہ شیو کرنے سے بال جلد کے اندر بڑھکے دانوں اور کیل مہاسوں کا سبب بنتے ہیں. داڑھی سے جھریوں کا مسلہ حل ہوتا ہے اور مرد زیادہ عرصے تک جواں  نظر آتا ہے.

قدرت نے داڑھی عورت کی بجاۓ مرد میں اس لیے رکھی ہے کیوں کہ عورت مرد کے مقابلے میں گھر سے بھر کم نکلتی ہے. جس سے یہ زہریلی گیسوں سے بچی رہتی ہے اور اسی وجہ سے مرودں میں کینسر کی شرح عورتوں سے کئی  زیادہ ہے. اس کے علاوہ عورتوں میں دل کے مسائل بھی مردوں کے مقابلے میں کم ہوتے ہیں. مزید برآں مردوں کے جسم میں اک ہارمون پیدا ہوتا ہے جو چہرے پر داڑھی کا سبب بنتا ہے. عورتوں میں وہ ہارمون پیدا نہی ہوتا. مرد چونکہ رزق کمانے کے لیے پورا دن باہر گزار دیتے ہیں تو قدرت نے جلد  کی حفاظت اور بیماریوں سے بچنے کے لیے اسکو داڑھی کی نعمت سے نوازا ہے.