ہفتے کے روز حکومت نے رش والی جگہوں ، بازاروں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں ماسک کا استعمال ضروری قرار دے دیا . اس اقدام کی وجہ کرونا جیسے خطرناک وائرس سے اثر انداز ہونے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہے . روز انفیکٹ ہونے والوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر گئیں ہیں اور چوبیس گھنٹوں میں اموات کی تعداد بھی اسی تک پوھنچ گیئں ہیں. 
حکومت نے بیرون ملک پاکستانیوں کی ملک واپسی کی تعداد بھی دو گنی کر دی ہے. اسکا اعلان وزیر اعظم کے خصوصی معاون ڈاکٹر ظفر مرزا ور ڈاکٹر معید یوسف نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا. 
ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ” چونکہ بانوے فیصد کیسز میں وائرس کی ٹرانسمیشن مقامی لوگو کے ملاپ کی وجہ سے ہورہی ہے اس لیے بازاروں،شاپنگ مالز ، پبلک ٹرانسپورٹ ، ٹرین اور ہجوم میں ماسک پہنانا ضروری قرار دیا گیا ہے ،” 
ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ بہت سے لوگ سوشل میڈیا پہ غلط معلومات پھیلا رہے ہیں جن مییں کچھ نامور لوگ بھی ہیں جنکا نام انہوں نے مینشن نہیں کیا . انہوں نے کہا کہ اس مشکل وقت میں لوگو کو ذمداری کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور لوگو میں آگاہی پیدا کرنی چاہیے . انہوں نے کہا کہ کسی بھی انفارمیشن کو بغیر تحقیق کے آگے نہ پھیلائیں .
ڈاکٹر یوسف کا کہنا تھا کہ چین اور انڈیا کے بارڈر بند رہیں گے اگرچہ انڈیا میں پھنسے چند سو پاکستانیوں کو تین مراحل میں واپس لایا گیا ہے. تاہم افغانستان کے ساتھ تجارت جاری ہے . مزید انہوں نے کہا کہ افغانیوں کے لیے انکے وطن واپسی پر کسی قسم کی کوئی بندش نہیں ہے. 
فلائٹس کے اجرا کے بارے میں بتاتے ہوے انہوں نے کہا کہ صرف وہ والی فلائٹس کو اجازت دی گی ہے جو بیرون ملک جا رہیں ہیں. یہ خبر بلکل غلط ہے کہ پاکستان انے والی فلائٹس بھی کھلی گییں ہیں.