یہ ایک حقیقت ہے کہ جنات اس دنیا میں پائے جاتے ہیں اور قدرت نے انہیں کئی طاقتیں عطا کر رکھی ہیں وہ کھاتے پیتے اور زندگی گزارتے ہیں ہیں۔ کل نفس ذائقہ موت کے مطابق موت کا ذائقہ بھی چکھتے ہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر جنات کو موت آتی کیسے ہے؟ کیا ان کی روحیں بھی انسانوں کی طرح قبض کی جاتی ہیں؟ اس حوالے سے اسلامی روایت کیا کہتی ہیں؟ قرآن مجید فرقان حمید سورۃ الرحمٰن میں ارشاد ربانی ہے کہ “جو کچھ زمین میں ہے سب کو فنا ہونا ہے صرف آپ کے پروردگار کی ذات باقی رہے گی جو کہ عظمت والا اور عزت والا ہے.” اس آیت مبارکہ سے یہ بات تو معلوم ہوتی ہے کہ ہر جاندار کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے جبکہ جنات کی پیدائش کے مقاصد پر بات کی جائے تو قرآن مجید فرقان حمید میں واضح طور پر بیان کیا ہے کہ جن اور انسان اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہوتا ہے, ” اور میں نے جنات اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں.” جب جنوں کے لیے عبادت کا حکم ہے تو ان کو بھی طور طریقے سکھائے گئے ہوں گے کیونکہ وہ ایک الگ مخلوق ہیں ہیں لہذا قرآن مجید فرقان حمید نے ایک پوری سورہ جن کے نام سے ہے جس میں ایک جگہ ارشاد ہوتا ہے کہ جنات کی ایک جماعت نے میری دعوت کو غور سے سنا تو جاکر اپنی قوم سے کہنے لگے کہ بے شک ہم نے ایک عجیب کلام سنا ہے جو ہدایت کی راہ دکھاتا ہے سو ہم اس پر ایمان لے آئے اور اپنے رب کے ساتھ کسی اور کو ہرگز شریک نہ ٹھہرائیں گے معزز قارئین! قرآن مجید فرقان حمید نے ایک جگہ جنوں کو مرنے کے بعد اٹھانے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے جس سے ان کی بھی موت اور حیات کا ثبوت ملتا ہے لہذا فرمان باری تعالی ہے کہ “(اے گروہ جنات! ) وہ انسان بھی ایسا ہی گمان کرنے لگے جیسا گمان تم نے کیا کہ اللہ( مرنے کے بعد ) ہرگز کسی کو نہیں اٹھائے گا۔” اللہ نے اس زمین کے لئے چار فرشتوں کو یہ ذمہ داری دی ہے کہ وہ اللہ کی مخلوق کی روح قبض کریں گے۔ پہلا فرشتہ حضرت عزرائیل جنہیں اللہ تعالی نے یہ ذمہ داری ہے کہ وہ انسانوں کے روح قبض کریں۔ دوسرا فرشتہ جو کہ حضرت عزرائیل کے ماتحت ہوتا ہے اس فرشتے کی ذمہ داری ہے کہ وہ جنات کی روح قبض کرتا ہے۔ تیسرے فرشتے کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ زمین پر موجود جانوروں، پانی میں رہنے والی مخلوقات اور کیڑے مکوڑوں کی روح قبض کرتے ہیں۔ یہ بھی حضرت عزرائیل کے ماتحت ہے اور چوتھے فرشتے کو اللہ تعالی کی طرف سے حکم ہے کہ وہ درختوں اور پودوں کے روح قبض کریں۔ اور یہ بھی حضرت عزرائیل علیہ السلام کے ماتحت ہیں۔ ایک شخص نے حضرت علی سےکہا کہ یا علی جنات کی موت کس طرح سے ہوتی ہے؟ اس کا سوال سن کر حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ جنات کی موت کا سبب ان تین چیزوں میں پوشیدہ ہے پہلا مٹی دوسرا بارش اور تیسرا شہر ہے جب جنات کی زندگی کا خاتمہ ہوتا ہے تو عزرائیل جنت میں موجود شہر کی نہر سے چند قطرے شہد کے اٹھا کر جنات کے ماتھے پر رکھ دیتے ہیں اور یوں جنات تڑپ پڑتے ہیں اور پھر وہ جن جو اللہ کے قوانین کو تسلیم کرتے ہیں ان کو سرور عطا کرتا ہے۔ جو جنات انسانیت کو گمراہ کرتے ہیں موت کے وقت وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آپ پر بڑا ظلم کیا ہے شیطان کھڑا انکو دیکھ رہا ہوتا ہے اور کہکہے لگاتا ہے ۔ دوستو روایات میں آتا ہے کہ جنوں میں بھی مسلم اور غیر مسلم پائے جاتے ہیں۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جنات کے انسانوں کی طرح موت اور حیات ہے اور ان پر شرعی احکامات بھی لاگو ہوتے ہیں۔