پاکستانی وزیراعظم عمران خان کے نیو یارک ميں ایک ہفتہ کا قیام کے دوران عالمی رہنماؤں سے ملاقاتوں اور یو این اے جنرل اسمبلی میں تاریخی تقریر سے بھارت کی ہٹ دھرمی آشکار ہو کر رہ گئی ہے اور سفارتی اور اخلاقی محاذ پر مودی سرکار سخت دباؤ میں ہے اسی دباؤ سے نکلنے اور عمران خان کی جوہری جنگ سے متعلق بیان کا جواب بھارتی سرکار کے بجائے بھارتی آرمی چیف بپن راوت نے دیا ہے۔؟کیا وجہ ہے کہ بھارت جس کی ہر بیان اور حکمت عملی حکومت کی طرف سے ہی بیان کی جاتی ہے لیکن اس بار انہوں نے عمران خان کو جواب دینے کے لئے آرمی چیف جنرل بپن راوت کا انتخاب کیا اور بھارتی آرمی چیف نے عمران خان کو کونسی گیدڑ بھبکی لگائی ہے۔؟؟؟
اس کے علاوہ ملیشیا اور ترکی نے کشمیر پر پاکستان کی کھل کر حمایت کیوں کی اور اس سے آگے چل کر اسلامی اتحاد کونسی کر وٹ بیٹھے گا اور کیا عمران خان نے ملیشیا اور ترکی کو ساتھ ملا کر اسرائيل ، بھارت اور امریکہ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔؟؟؟ پاکستان ترکی اور ملائشیا کے اتحاد کی بدولت ہی سعودی عرب کے ولی عہد نے مسلمانوں کی آپس میں لڑائی کے امکان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے ایران کو سمجھانے کے لیے اقوام عالم سے اپیل کردی ہے ۔
انڈیا کے آرمی چیف جنرل بپن راوت نے کہا ہے کہ ضرورت پیش آنے پر ان کی افواج لائن آف کنٹرول عبور بھی کرسکتی ہے ٹائمز آف انڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں میں انڈین فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سرجیکل اسٹرائیک کے ذریعے انہوں نے اپنا پیغام پاکستان تک واضح طور پر پہنچا دیا تھا اب ان کی جانب سے یہ بیان پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے اقوام متحدہ میں کی گئی تقریر کے چند ہی دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے جنرل بپن راوت نے مزید کہا کہ اگر پاکستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر درآمدومداسی نہیں ہوتی تو یہ سرحد برقرار رہے گی انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب آنکھ مچولی کا کھیل نہیں چلے گا اور اگر لائن آف کنٹرول بھی پار کرنی پڑی تو ہم کریں گے اور خواہ زمینی راستے سے کرنی پڑے یا فضائی کارروائی کے ذریعے یا دونوں طرح سے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں حدود کا تعين کیا جا چکا ہے اور آگے کا لائحہ عمل بھی طے کیا جاچکا ہے انڈیا کے آرمی چیف نے پاکستان وزیراعظم عمران خان کی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر پر بھی تنقید کی عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خدشہ موجود ہےانڈيا کے آرمی چيف کا کہنا ہے کہ مجھے سمجھ نہیں آیا کہ وہ عمران خان روایتی جنگ میں بھی جوہری ہتھیار استعمال کرنے کی بات کر رہے ہیں یا اگر ان پر حملہ ہوتا ہے تب۔۔ کیا بین الاقوامی برادری کبھی آپ کو اس طرح ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت دے گی۔؟
پاکستان کے بیانات سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ انہيں طیاروں کے استعمال کے حوالے سے سمجھ بوجھ کی کمی پائی جاتی ہے انڈين آرمی چيف نے الزام لگايا کہ پاکستانی نوجوانوں کو سرحد پار بھيج کر انڈیا میں فساد برپا کرنا چاہتا ہےليکن اس بار کوئی دہشت گرد ہمارے علاقے میں داخل نہ ہوسکےگا یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ جنرل بپن راوت کی جانب سے ایسا بیان سامنے آیا ہوں اس سے قبل بھی وہ جولائی میں کرگل کے واقعے کو بیس سال مکمل ہونے پر منعقد کی گئی تقریب میں پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی انڈیا میں مداخلت کا الزام عائد کر چکے ہیں اس موقع پر انہوں الزام لگاتے ہوئے کہاکہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہر قسم کی طالع آزمائی کی سزا دی جائے گی اور اسے کسی بھی طرح کی دہشت گردی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔
جنرل اسمبلی نے عمران خان کی جانب سے کشمیر میں بھارتی مظالم اور آر ایس ایس کے مسلم کش نظریہ کو بے نقاب کرنے کے بعد ترک صدر طیب رجب اردگان کی طرح ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھی مسئلہ کشمیر پر کھل کر بات کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں مہاتیر محمد نے بھارت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے باوجود جموں و کشمیر پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کیا گیا انہوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے اس سیکشن کی وجوہات ہو مگر یہ بھی غلط اقدام ہے انہوں نے کہا کہ اس معاملے کو پرامن طریقے سے حل کرنا چاہیے اور بھارت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر اسے حل کرے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ اقوام متحدہ کو نظرانداز کرنے کی صورت میں اس ادارے قانون کی حکمرانی کے لیے رسوائی کا پہلو نکل سکتا ہے۔۔