بچے کے پیدا ہونے کے بعد اسکے کان میں اذان کیوں دی جاتی ہے؟

0
1989

اسلام نہ صرف ایک مکمل ضابطہ حیات ہے بلکہ اس کی تعلیمات انتہائی مکمل اور جامع ہے بات چاہے پیدائش کی ہوئی اور موت کی یہ زندگی کے ہر پہلو میں ہماری رہنمائی کرتا ہے حضرت حسن بن علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے ہاں بچہ پیدا ہو تو وہ اس بچے کے دائیں کان میں اذان اور بائیں کان میں اقامت پڑھے بظاھر تو علما نے آج سے پہلے علمائے کرام نے اس کے بارے میں جو حکمت یہ بیان فرمائی ہیں وہ یہ ہے کہ اذان کے کلمات سے شیطان بھاگ جاتا ہے جس کی وجہ سے بچہ اس کے شر سے محفوظ رہتا ہے اس کے علاوہ اس میں یہ مسئلہ بیان کی جاتی ہے کہ بچے کے دنیا میں آتے ہیں اس کو جو دعوت ملے وہ عقیدہ توحید عقیدہ رسالت اور نماز کی دعوت ہو
لیکن یہ تحقیق کی ہے کہ مسلمان بچے کے پیدا ہوتے ہی اس کے کان میں اذان کیوں دیتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بچے کے کان میں اذان کہنے کی حکمت کا اندازہ اس وقت ہوا جب فرانس میں ایک لڑکی کو ہوسپیٹل کے اندر دورے پڑنے شروع ہوئے وہ اپنی تحقیق میں مزید لکھتا ہے کہ جب اس لڑکی کو دورہ پڑتا تو جرمن زبان میں بعض مذہبی دعائیں پڑھنا شروع کر دیتی وہ ایک فرانسیسی لڑکی تھی لیکن جرمن زبان کا ایک حرف بھی نہیں جانتی تھی جب اس نے جرمن زبان میں باتیں کرنا شروع کی تو ڈاکٹر حیران ہوگیا کہ یہ لڑکی تو جرمن زبان نہیں جانتی تو پھر یہ کیسے جرمن زبان بول رہی ہے اور اس کے سر پر جنات وغیرہ سوار ہیں آخر نفسیات کے ایک ڈاکٹر نے ان تمام معلومات کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے متعلق تحقیقات شروع کر دیں اسکو معلوم ہوا کہ جب یہ لڑکیاڑھایی سال کی تھی تو اس وقت اس کی ماں ایک جرمن پادری کے ہاں ملازم تھی جب وہ اس سے یہ بات معلوم ہوئی تو اس کی تلاش میں نکلا اور اس سے معلوم ہوا کہ وہ جنرلپادری تو اس وقت سپین میں ہے وہاں جاکر معلوم ہوا کہ وہ جرمن چلا گیا ہے جب وہ اس کی تلاش میں جرمنی پہنچا تو اسے سے معلوم ہوا کہ وہ پادری تو مر چکا ہے مگر اس نے اپنی کوشش نہ چھوڑیں اور اس نے گھر والوں سے کہا اگر اس پادری کے کوئی پرانے کاغذات ہیں تو مجھے دکھائیں گھر والوں نے تلاش کرکے اسے بعض کاغذ ملے اور جب اس نے ان کو دیکھا تو اسے معلوم ہوا کہ وہ دعائیں جو بے ہوشی کی حالت میں وہ لڑکی پڑھا کرتی تھی وہ وہی ہے جو پادری کی سرمند تھی جب اس ڈاکٹر نے اس سارے واقعے کے بعد انسانی دماغ پر ریسرچ کی تو اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ بچے کی پیدائش کے دوران جو بات اس کے دماغ میں ڈالی جائے اس کے دماغ میں ساری زندگی کے لئے محفوظ ہو جائے تو اس کو بہتر طریقے سے محفوظ کرتا ہے اور اسے اس کام کے لیے دیتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب کسی مسلمان کے گھر میں بچہ پیدا ہو تو فورا اس کے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں اقامت ہو کے ماہرین نے تو آج معلوم کیا ہے کہ انسانی دماغ میں سالہا سال کی پرانی چیزیں محفوظ رہتی ہیں مگر ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے آج سے چودہ سو سال پہلے اس نکتے کی طرف توجہ دلائی اور فرمایا کہ بچے کے پیدا ہوتے ہی تم اس کے کان میں اذان کہو کیونکہ اب وہ اس قابل ہے کہ وہ تمہاری باتوں کو محفوظ رکھے اور آپ کے ذہن میں بچے کے کان میں اذان دینے کی اس کے علاوہ اور بھی کوئی حکمت ہے کل آئے گا