اگر ایک عورت کے دنیا میں ایک سے زیادہ شوہر رہے ہوں تو جنّت میں وہ کس کے ساتھ رہے گی ؟

0
2121

جب بھی جنّت کا ذکر آتا ہے تو انسانی دماغ میں اس چیز کا تجسس شرو ع ہوجاتا ہے کہ جنّت میں مردوں کو تو حوریں ملائیں گی مگر عورتوں کو کیا ملےگا. آج ہم قرآن و سنّت کی روشنی میں اس سوال کا دینے کی کوشش کرینگے .
اسلام ایک مکمل دین ہے جسنے اسانوں بلکہ جانوروں جو بھی حقوق دے ہیں. اسلام نے عورت کو ایک عظیم مقام دیا ہے. جنت میں جہاں مردوں کو حوریں ملیں گیں وہیں عورتوں پر بھی انعامات کا ذکر کیا گیا ہے. عورتوں کو نیے سرے سے پیدا کیا جایگا. اور کنواری حالت میں جنّت میں داخل ہونگے. جنّتی خواتین اپنی شوہروں کی ہم عمر ہونگی اور اپنے شوہروں سے ٹوٹ کر پیار کرنے والی ہونگے’. قرآن مجید میں ان سب باتوں کا ذکر سوره واقعہ میں اس طرح سے کیا گیا ہے: “اہل جنّت کی بیویوں کو ہم نئے سرے سے پیدا کرینگے. ”
قیامت کے دن مردوں کے ساتھ کوئی خاص معاملہ نہیں ہوگا بلکہ ہر نفس کو اسکے اعمال کے مطابق جزا اور سزا ملیگی. فرمان الہی ہے :” اور جنت میں داخل ہوجاؤ تم اور تمہاری بیویاں. اور تمہں خوش کردیا جایگا. ” جنّت میں داخل ہونے والی خواتین اپنی پسند کے مطابق دنیا وی شوہروں کی بیویاں بنیں گی. بشرط یہ کہ وہ وہوہڑ بھی جنّتی ہوں. اور جن عورتوں کے دنیا میں ایک سے زیادہ شوہر رہے ہونگے انکو اپنی پسند کے مطابق کسی ایک کے ساتھ رہنے کا اختیار دیا جایگا. حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ انہں نے حضور محمّد سے عرض کیا کہ اے الله کے رسول ! ہم میں سے بعض عورتوں نے (دنیا میں ) دو یا تین یا چار مردوں سے یکے بعد دیگرے نکاح کیا ہوتا اور مرنے کے بعد جنّت میں چلی جاتی ہے اور سارے مرد بھی جنّت میں چلے جاتے ہیں تو انمیں سے کونسا انسکا شوہر ہوگا. ؟ آپ نے فرمایا ” اے ام سلمہ ! وہ عورت ان مردوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کریگی اور وہ اچھے اخلاق والے مرد کو ہی پسند کریگی. اور الله سے گزارش کریگی (کہ اے اللہ یہ مرد دنیا میں میرے ساتھ بہت اچھے سے پیش آیا اسکو میرے ساتھ بیاہ دے). ”