امريکہ ميں مودی کی ايک نہيں، دو نہيں بلکہ تين بار بے عزتی۔۔۔۔۔عمران خان کيسے چھا گيا۔۔؟؟

0
2861
Khan vs Modi
Khan vs Modi

بڑےقوموں کی قیادت قا بل اور بڑے حکمرانی کرتے ہیں لیکن ہر بار ایسا ہو یہ بھی ضروری نہیں ہے اس کی ایک مثال انڈیا ہے کہ جسے آج کل ایک ایسے گوارحکمر ان سے واسطہ پڑا ہے کہ جو ان کے لئے گائے کی طرح مقدس تو ہوسکتا ہے مگر اسی جانور کی طرح سادہ اور بے وقوف بھی ہے ہر انٹر نيشنل دورہ پرمودی سے کوئی نہ کوئی ایسی حرکت سرزد ہوجاتی ہے جوہندوستانیوں کے لیے شرمندگی کا باعث بن جاتی ہے چاہے وہ عالمی رہنماؤں کے ساتھ زور زور سے بلا وجہ ہاتھ ملانا ہویا خوشامد کرتے ہوئے ان کے ساتھ اتنا چپکنا اور گلے لگانا ہوں کہ وہ خود اکتاہٹ کا شکار ہو جائیں ۔صفات کی بنا پرپروٹو قول پر ناواقفيت کی بنا پر بونگياں مارنا ہو یا انٹرنیشنل فورم پر فوٹو سیشن کے دوران عجیب و غریب ہرکتيں کرنا ہو ان تمام ہرکتوں ميں انڈين پرائم منسٹر بازی لے جاتے ايک طرف دنیا بھر میں انڈین کو ذلیل کروانے والی کی حرکتیں اور دوسری طرف امریکہ کے دورے کے دوران مودی عمران خان کو مشروط کرنے کی کوشش کر رہا ہے وہ عمران خان کے دنیا بھر میں جس کی شہرت قاتل مودی کے برعکس صاف ستھرے اور ایماندار حکمران کی ہے جہاں ایک طرف مودی کی احمقانہ حرکتوں کی وجہ سے مودی سے ملاقات کے دوران عالمی رہنماؤں کی بیداریاں طاہر صاف نظر آرہی ہوتی ہے جبکہ دوسری جانب پاکستانی وزیراعظم عمران خان کی شخصیت ایسی ہے کہ عالمی رہنما خود چل کر ان سے ملتے ہیں ان کے ساتھ بیٹھنا پسند کرتے ہیں ان کے ساتھ سیلفیز لیتے ہیں چاہے وہ روس پریذیڈنٹ ولادمیر پیوٹن ہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ ہو یا برٹش پرائم منسٹر بورس جانسن ہوں۔اور ممتاز مسلمان رہنما مہاتیر محمد اور رجب طیب اردگان بھی عمران خان کو اپنا چھوٹا بھائی گردانتے ہیں اور ان کے ساتھ کھڑے ہونا قابل فخر سمجھتے ہیں انڈین کو ایک بات تو سمجھ لینی چاہیے کہ عمران خان کی پرکشش شخصیت کا مقابلہ کرنااور اس پر فتح پانا بیچارے بمبار مودی کے بس کی بات نہيں۔

 امريکہ ميں مودی کی ايک نہيں، دو نہيں بلکہ تين بار بے عزتی۔۔۔۔۔عمران خان کيسے چھا گيا۔۔؟؟ 
Khan Vs Modi


ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو ہماری باتیں جانبدارانہ لگ رہی ہو ںلیکن امریکہ وزٹ کے دوران اگر امریکی میڈیا کو دیکھا جائے تو وہ بھی عمران خان اور مودی کا مقابلہ کیے بنا نہیں رہ پائے ۔امریکی ميڈيامیں نے تو یہاں تک چوٹ لگا رہا ہے کہاں ایک طرف مودی جیسا کم پڑھا لکھا اور چائے والا اور کہاں دوسری طرف اکسفورڈ کا گريجوئيٹ جو ایک ایسا شخص ہے جو وزیر اعظم بننے سے پہلے ہی دنیا کا اس کو یاد رکھتا تھا جس زمانے میں خان کینسر کے پیشنس کے لئے مفت ہسپتال بنا رہا تھا تو اسی دور میں مودی انڈیا میں وزارت عظمیٰ کی دوڑ پکی کرنے کے لئے گجرات میں آگ لگوا رہا تھا اور غنڈوں کی طرح مسلمانوں کا قتل عام کر رہا تھا بیچارے مودی کے امریکہ وزٹ کے دوران اور دونلڈ پرمپ سے ملنے سے پہلے امریکی میڈیا مودی کی پپی و جپئوؤں و کو مذاق بناتے ہوئے کارٹون شائع کرتا رہا جس میں ملانيا ٹرمپ کو ڈرے ہوئے دکھایا گیا اور کہا گیا نوہگز پلیز ۔۔۔جبکہ دوسری جانب امریکی میڈیا رپورٹ کرتا ہے کہ یہی میلانیا ٹرمپ جب عمران خان سے ملتی ہے تو اس کے قریب کھڑے ہو کر تصویر کھنچوانے میں اور اس سے گفتگو میں خوشی محسوس کرتی ہے اور بیچارے مودی کی بےعزتی صرف امریکی میڈیا کے ہاتھوں ہی نہیں ہورہی ہے وہ تو اپنے ملک کے باسیوں سے امریکہ میں خطاب کرنے کے لیے ہال میں اکٹھا کرتا ہے تو اسی ہال کے باہر اسی ملک کے سکھ اسکے خلاف قاتل مودی کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں اورسننے میں آیا ہے کہ ایسی سختی اور ندامت کا بدلہ لینے کے لیے انڈیا یہ پلین کر رہا ہے کہ جب وزیراعظم عمران خان يو ايس اے میں جلسہ کریں کچھ لوگ اس ہال کے باہر پلے کارڈ دلے کر پاکستان کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہوں