حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قريب ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا دور آئے گا جب اسلام کا نام اور قرآن کا صرف رسم الخط صرف باقی رہ جائے گا
يہ مساجد آباد ہوگی لیکن ہدایت سے خالی ہو نگی ان کے علماء آسمان طلب بدترین لوگ ہونگے اور انہيں ميں فتنہ ظاہر ہوگا اور انہيں ميں لوٹ جائے گا 
يہی کہانی مولانا فضل ارحمان کی ہے جو فسادی مارچ کے ليے مدرسے کے بچوں کو لے کر آرہا ہے جس نے اس ماچ کو آزادی مارچ کا نام ديا ہے۔۔
وہ مارچ اس شخص کی حکومت ختم کرنے کےليے کر رہا ہے جس شخص نے پوری دنيا کے سامنے اسلام کے ليے آواز بلند کی ہے وہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا مجاحد بن کر پوری دنیا کے اندر جاکر لڑتا ہے کہ میرے نبی کے بارے میں یہ بات نہ کی جائے۔ میں عاشق رسول ہوں۔ کیا بہترین انداز میں تقریر کرتا ہے اس کی حکومت گرانے کے لیے آرہے ہیں صرف ان لوگوں کو لا رہا ہےمدرسے کے بچوں کو جن کو دین کے احکامات کا پتہ ہی نہيں آدھے سے زیادہ ایسے بچے ہوں گے جنہوں نے صرف عربی رٹی ہوئی ہے جو حافظ قرآن ہونگے لیکن ان کو پتہ نہیں اس کے اندر کیا لکھا ہوا ہے ۔ مدرسے میں جن کے بچوں کو داخل کرديا جاتا ہے وہ بچہ کند ذہن ہوجاتا ہے جو بچے پڑھتے ہیں وہ دوسرے شہروں سے آئے ہوئے ہوتے ہيں ان کے والدين تين تين مہہينے بعدد ان سے ملنے آتے ہيں يہ بچے قاری کے رحم وکرم پہ ہوتے ہيں اور ان کی ہاں ميں ہاں ملاتے ہيں۔ انکی اپنی کوئی سوچ سمجھ نہيں ہوتی۔ انہيں جو کہا جاتا ہے يہ بغير سوچے سمجھے اس پر عمل کرتے ہيں اور ان کو لے کر یہ اسلام آباد آرہے ہیں صرف لال مسجد جيسا فسادکھڑا کروانے کے لیے۔ فضل الرحمن جیسے عالم یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح کا فساد کریں گے تو حکومت مل جائے گی ۔
یاد رکھیے گا عمران خان اس سسٹم کا آخری کھلاڑی تھا ہے اور ہميشہ رہے گااگر عمران خان گیا تو پورا نظام جائے گا کوئی بھی نہیں آئے گا ۔ عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے ملک میں فساد کريں